دوسرا آئی ٹی ہب جاریہ سال کے اواخر تک رائے درگ میں مکمل ہوجائے گا

,

   

جس پر 276 کروڑ کے مصارف ہیں ، ایک ہزار سے زائد اسٹارٹپس کو مربوط کیا جائے گا : کے ٹی آر
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر آئی ٹی کے ٹی آر نے کہا کہ جاریہ سال کے اواخر تک دوسرے مرحلے کا ٹی ہب مکمل ہوجائے گا ۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ٹی ہب پر ارکان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں پہلا ٹی ہب نومبر 2015 میں قائم کیا گیا ۔ ان پانچ سال کے دوران میں بہت بڑا ٹکنالوجی انکیوٹبر میں تبدیل ہوگیا ۔ اسٹارٹپ کی تعداد 400 سے بڑھ کر 2000 سے تجاوز کر گئی ۔ 400 سے زائد کارپوریٹ کمپنیاں بھی کارپوریٹ انوویشنس کا آغاز کیا ۔ ٹی ہب نے راست طور پر 1100 اسٹارٹپس کے ذریعہ 1800 کروڑ سے زائد فنڈز کا انتظام کیا ہے جس کے ذریعہ 25 ہزار سے زائد نوجوان لڑکے و لڑکیوں کو ملازمت کے مواقع فراہم ہوئے ۔ 3.50 لاکھ سکوائر فیٹ اراضی پر دوسرا ٹی ہب رائے درگ پر تعمیر کیا جارہا ہے ۔ جاریہ سال کے اواخر تک اس کی تعمیرات مکمل ہوجائے گی ۔ اس سے 1000 سے زائد اسٹارٹپس کو مربوط کیا جائے گا ۔ کئی اختراعی عمل کے لیے ٹی ہب پلیٹ فارم ثابت ہورہا ہے ۔ وزیر آئی ٹی کے ٹی آر نے کہا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کو صرف شہر حیدرآباد تک محدود رکھنے کے بجائے اس کو اضلاع ہیڈ کوارٹرس تک فروغ دینے کے لیے کریم نگر ، ورنگل ، محبوب نگر ، نظام آباد ، کھمم میں آئی ٹی ٹی ہبس تعمیر کیے جارہے ہیں جس کے لیے حکومت فنڈز مہیا کررہی ہے ۔ دیہی علاقوں میں نوجوان انووٹیرس کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ گھر گھر انووٹیرس کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ اس کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ ریاستی وزیر آئی ٹی نے بتایا کہ ٹی ہب سے ملک کے 8 ریاستوں نے معاہدہ کیا ہے ۔ کسانوں کو بھی ٹیکنیکی سہولتوں سے استفادہ فراہم کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔۔