مسلمانوں سے وعدے فراموش، صرف کے سی آر خاندان کا فائدہ ہوا، میٹ دی پریس سے صدر پردیش کانگریس کا خطاب
حیدرآباد ۔3۔نومبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے بی آر ایس اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ اسمبلی انتخابات میں دولت اور شراب کی تقسیم کے بغیر ہی عوام سے رجوع ہوں تاکہ عوام کا حقیقی فیصلہ منظر عام پر آئے ۔ ورکنگ جرنلسٹ یونین کی جانب سے میٹ دی پریس پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ عوام کو مختلف ترغیبات اور لالچ کے بغیر فیصلہ کا اختیار دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی آر کو چیلنج کرچکے ہیں۔ کالیشورم پراجکٹ کے تحت میڈی گڈا بیاریج میں شگاف کا حوالہ دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ناقص تعمیری کاموں کے نتیجہ میں پلرس غرقاب ہوگئے اور بیاریج میں شگاف پڑگیا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کے ساتھ کل دورہ کے موقع پر خود عہدیداروں نے بیاریج میں شگاف کو تسلیم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ کل جماعتی قائدین کو پراجکٹ کے دورہ کی اجازت دیں تاکہ حقائق منظر عام پر آئیں۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ فلاحی اسکیمات کا آغاز کانگریس حکومت کا کارنامہ ہے اور بی آر ایس نے کانگریس کی کئی اسکیمات کی نقل کی ہے۔ انہوں نے بی آر ایس کے 10 سالہ دورہ حکومت پر مباحث کا چیلنج کیا اور کہا کہ کانگریس کی جانب سے وہ اور سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا بحث کیلئے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں حکومت نے مختلف شعبہ جات میں جو اقدامات کئے ہیں ، ان پر کانگریس مباحث کرے گی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں صنعتوں کے قیام اور سرمایہ کاری میں اضافہ کانگریس کی دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے سیاسی نقصان کی پرواہ کئے بغیر علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی ہے۔ سونیا گاندھی نے عوام کی قربانیوں اور جذبات کا احترام کرکے تلنگانہ ریاست قائم کی لیکن نئی ریاست سے کے سی آر اور ان کے خاندان کو فائدہ پہنچا۔ انہوں نے دھرانی پورٹل میں وسیع تر دھاندلیوں کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کے سی آر کے افراد خاندان نے کسانوں کی زمینوں کو ہڑپ لیا ہے۔ اقلیتوں کی بھلائی میں کے سی آر حکومت کی ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ مسلمانوں سے کئے گئے کئی وعدے پورے نہیں ہوئے جن میں 12 فیصد تحفظات کا وعدہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے جس کے نتیجہ میں لاکھوں طلبہ کو فائدہ ہوا۔ کانگریس نے 50 سے زائد انجنیئرنگ کالجس کی منظوری دی تھی لیکن کے سی آر حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں بیشتر کالجس بند ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کا جامع منصوبہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ریونت ریڈی نے کہا کہ بائیں بازو جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کی بات چیت ابھی جاری ہے ، قومی سطح پر جلد ہی معاملہ کی یکسوئی کرلی جائے گی ۔ ریونت ریڈی نے کے سی آر کو کریمنل سیاستداں قرار دیا اور کہا کہ سونیا گاندھی نے کے سی آر خاندان کی بھلائی کیلئے تلنگانہ تشکیل نہیں دیا۔ ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ رعیتو بندھو اسکیم کانگریس کی شروع کردہ ہے جس کا ذکر 2014 کے انتخابی منشور میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی چناؤ کیلئے کے سی آر نے کانگریس ضمانتوں کی نقل کرکے اپنے منشور میں شامل کرلیا۔ تلنگانہ میں کانگریس اقتدار کو یقینی قرار دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آتے ہی بی آر ایس حکومت کی اسکیمات کا جائزہ لے گی۔