دولتمند تلنگانہ ریاست کو کے سی آر نے مقروض کردیا: بھٹی وکرامارکا

   

تین لاکھ کروڑ کا قرض عوام پر بوجھ، پولیس کو عوام سے زیادہ ٹی آر ایس قائدین کے تحفظ کی فکر
حیدرآباد۔ 13 ڈسمبر (سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر کی پالیسیوں کے نتیجہ میں تلنگانہ معاشی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ریاست کی تشکیل کے وقت تلنگانہ معاشی طور پر مستحکم اور دولتمند ریاست تھی لیکن کے سی آر نے اپنی غلط پالیسیوں کے نتیجہ میں دولتمند ریاست کو مقروض ریاست میں تبدیل کردیا ہے۔ ریاست پر تین لاکھ کروڑ سے زائد کا قرض کا بوجھ عائد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر اہم پراجیکٹس پر ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کئے گئے تاکہ کنٹراکٹرس کو فائدہ ہو اور حکومت کو کمیشن حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ناکام چیف منسٹر کو عوام بہت جلد سبق سکھائیں گے۔ کسانوں کی بھلائی کے لیے کئی اعلانات کئے گئے تھے لیکن رئیتو بندھو اسکیم ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اسکیم کی رقومات 50 فیصد کسانوں تک نہیں پہنچی۔ آبپاشی پراجیکٹوں کی ری ڈیزائننگ کے نام پر بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں کی گئی ہیں۔ پولیس کے جانبدارانہ رویہ پر تنقید کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ پولیس نظم و نسق صرف ٹی آر ایس قائدین کے لیے کام کررہا ہے۔ عوام کے تحفظ سے زیادہ پولیس کو ٹی آر ایس قائدین کی ہدایات پر عمل آوری کی فکر ہے۔ کے سی آر کی قدم بوسی کرنے والوں کو کابینی درجے کے عہدے دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی راجیشور ریڈی کا زراعت سے کوئی تعلق نہیں لیکن انہیں فارمرس کوآرڈینیشن کمیٹی کا صدرنشین مقرر کیا گیا۔ راجیشور ریڈی کارپوریٹ کالجس چلاتے ہیں اور کالجس کا زراعت سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال سے نمٹنے میں کے سی آر ناکام ثابت ہوئے۔ عدالت میں آر ٹی سی ملازمین کے لیے 47 کروڑ کی ادائیگی کی ہدایت دی تو حکومت نے رقومات نہ ہونے کا بہانہ بنایا۔ حکومت کے رویہ کے نتیجہ میں 30 سے زائد ملازمین کی موت واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فی کیلومیٹر 20 پیسے بس کرائے میں اضافہ کرتے ہوئے عوام پر ایک ہزار کروڑ روپئے کا بوجھ عائد کیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں تقررات کا سلسلہ بند ہوچکا ہے۔ گروپ۔I اور گروپ۔II کے نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوئے۔ کے سی آر نے شراب کی فروخت کو عام کرتے ہوئے 11 ہزار کروڑ کی آمدنی کو 22 ہزار کروڑ تک پہنچادیا ہے۔ شراب کے نتیجہ میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا۔ راجیو آروگیہ شری اسکیم کو مسدود کردیا گیا جس کے نتیجہ میں غریب عوام علاج کی سہولتوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ اپوزیشن سے خوفزدہ ہوکر کے سی آر نے کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کو انحراف پر مجبور کیا۔ بھٹی وکرامارکا نے امن و ضبط کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو جرائم پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئے۔