غیر موسمی پھل ، بازار میں آم سے عوام حیرت زدہ ، استعمال کنندوں کو محتاط رہنے کی ضرورت
حیدرآباد۔14جنوری(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں پھلوں کا بادشاہ ’’آم‘‘ دستیاب ہونے لگا ہے لیکن اس آم کا استعمال صحت کے لئے مضر ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ موسم گرما درحقیقت ’’آم ‘‘ کا موسم ہوتا ہے لیکن جاریہ سال کے دوران موسم سرما کے اختتام سے قبل ہی بازار میں آم دیکھا جانے لگا ہے لیکن اس کی قیمت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے کیونکہ آم کا موسم ابھی شروع نہیں ہوا ہے جس کے نتیجہ میں قلیل تعداد میں آم بازار میں پہنچ رہے ہیں۔ جامباغ‘ کتہ پیٹ‘ ایرہ گڈہ ‘ مہدی پٹنم کے علاوہ گڈی ملکا پور اور دیگر بازاروں میں آم کی دستیابی شہریوں کو حیرت میں مبتلاء کئے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود شائقین آم اضافی قیمتوں میں ہی سہی اس پھل کی خریدی کر رہے ہیں۔ تاجرین کے مطابق بازار میں فی الحال بینگن پلی ‘ بے نشان‘ نیلم ‘ طوطا پیری‘ الفانسو کی اقسام موجود ہیں جو کہ 250روپئے تا 350 روپئے کیلو فروخت کی جا رہی ہیں ۔ آم ماہ مارچ میں بازار میں آیا کرتا تھا اور جون تک آم بازار میں دستیاب رہا کرتے تھے لیکن اب جو آم شہر میں فروخت کئے جا رہے ہیں ان کے متعلق کہا جا رہاہے کہ تمل ناڈو‘ کرناٹک اور آندھراپردیش میں کی جانے والی غیر موسمی کاشت سے پیدا کئے گئے آم ہیں ۔ محققین بالخصوص جو پھلوں اور ان کے پودوں کی تحقیق انجام دیتے ہیں ان کا کہناہے کہ ابھی جو آم دستیاب ہیں ان کا استعمال درست نہیں ہے کیونکہ یہ آم نہ صرف چھوٹے ہوتے ہیں بلکہ ان کی مٹھاس بھی کم ہوا کرتی ہے علاوہ ازیں موسم سرما کے دوران کاشت کے ذریعہ آج حاصل کرنے والے کاشتکار جن ادویات کا استعمال کرتے ہیں وہ پودوں اور پیڑ کی صحت کے لئے نقصاندہ ہیں اور آم کے پودوں اور پیڑوں کی عمر کو گھٹانے کا سبب بنتے ہیں۔آم کا جو موسم ہوتا ہے اس کے مطابق موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی پیڑوں پر پھول لگنے لگتے ہیں اور جب موسم گرما عروج پر پہنچنے لگتا ہے تو اس وقت آم بازار میں تیزی سے آنے لگتے ہیں ۔تاجرین کا کہنا ہے کہ بازار میں موجود آم کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کئے گئے آم بھی ہوسکتے ہیں جو کہ گذشتہ موسم میں محفوظ کرلئے گئے تھے اور اب انہیں کولڈ اسٹوریج سے نکالتے ہوئے پکایا جارہا ہے ۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں آم کے موسم کا آغاز ماہ مارچ سے ہوتا ہے جو کہ موسمی پیداوار سے حاصل ہونے والا پھل ہوتا ہے لیکن اب جو بازار میں پھل دستیاب ہیں ان پھلوںکے متعلق وہ کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں لیکن بازار میں بڑھ رہی طلب کو دیکھتے ہوئے وہ یہ آم فروخت کر رہے ہیں کیونکہ شہری آم کو دیکھتے ہی اس کی خریدی کی سمت راغب ہونے لگے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں سے شہرپہنچ رہے آم کی فروخت نے پھلوں کے تاجرین کے علاوہ ریاست کے کاشتکاروں کو بھی حیرت میں مبتلاء کردیا ہے کیونکہ دونوں شہروں میں گذشتہ کئی برسوں کے دوران بازار میں ڈسمبر کے اواخر یا جنوری کے اوائل میں آم جیسا خاص پھل نہیں پہنچا تھا لیکن اس مرتبہ بیشتر تمام پھلوں کے بازاروں میں آم فروخت کے لئے دستیاب ہونے لگا ہے۔3