انتہائی خستہ حالت پر منہدم کردیا جائیگا ۔ مئیر حیدرآباد کی ہدایت پر جی ایچ ایم سی کی کارروائی
حیدرآباد۔23جولائی (سیاست نیوز) دونو ںشہرو ںحیدرآبادو سکندرآباد میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کرکے انہیں نوٹس جاری کرنے کاعمل جاری ہے اور اب تک مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے 483 عمارتوں کو نوٹس جاری کردی گئی ہے جبکہ 19 عمارتوں کا تخلیہ کرواتے ہوئے انہیں مہربند کیا جاچکا ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ مئیر جی ایچ ایم سی مسز وجئے لکشمی نے موسم باراں کے دوران مخدوش عمارتوں کے منہدم ہونے کے حادثات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے ان عمارتوں کو نوٹس جاری کرنے کے علاوہ انتہائی مخدوش عمارتوں کا تخلیہ کروانے احکام جاری کئے ہیں جس کے نتیجہ میں شعبہ ٹاؤن پلاننگ کی جانب سے دونوں شہروں کے علاوہ بلدی حدود میں قدیم عمارتوں کو جو انتہائی مخدوش ہیں اور تخلیہ کیا جاچکا ہے ان کو منہدم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔بلدی عملہ اور شعبہ ای وی ڈی ایم کی جانب سے نالوں کی صفائی اور نالوں کے قریب آبادیوں میں پانی داخل ہونے کی شکایات کا جائزہ لیا جا رہاہے ۔ جی ایچ ایم سی کے دعوے کے مطابق دونوں شہروں میں 90فیصد برساتی نالوں کی صفائی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے جس کے سبب ٹولی چوکی اور یاقوت پورہ میں برساتی پانی کے بہاؤ میں بہتری آئی ہے۔ذرائع کے مطابق کمشنر بلدیہ رونالڈ روس نے اپنے ماتحت تمام زونل کمشنراں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے زون میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کرکے ان کو نوٹس جاری کریں اور جن عمارتوں کی حالت انتہائی خستہ ہے ان کے تخلیہ کو یقینی بنا کر انہیں مہربند کیا جائے۔موسم باراں کے دوران سڑکوں اور سیلر کی کھدوائی کے سلسلہ میں جی ایچ ایم سی کے امتناع کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کمشنر بلدیہ نے کہا کہ شہریوں کو کسی بھی طرح کے خطرات سے محفوظ رکھنے تمام تر اقدامات کئے جائیں جو ضروری ہیں۔انہوں نے نشیبی علاقوں اور نالوں کے قریب آبادیوں سے پانی کی نکاسی کو یقینی بنانے ضروری اقدامات کی تاکید کی اور کہا کہ دونوں شہروں میں بارش کے دوران پانی کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے علاوہ ڈرینیج کی صفائی کے امور کی بھی نگرانی کی جائے تاکہ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی شکایات نہ رہیں۔شہر میں مخدوش عمارتوں کے مالکین کو نوٹس کی اجرائی کے علاوہ بلدیہ کی جانب سے ان جائیدادوں پر اسٹیکر چسپاں کرکے اطراف مکینوں کو بھی متنبہ کیا جا رہاہے کہ اس عمارت کو مخدوش قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ کاروائی کسی بھی وقت ممکن ہے۔م