دونوں شہروں میں موسلا دھار بارش سے ٹریفک جام

   

اسکولس ، کالجس ، آئی ٹی اور عام مسافروں کی آمد و رفت میں رکاوٹ
حیدرآباد۔29۔اکٹوبر(سیاست نیوز) دونوں شہرو ںحیدرآباد وسکندرآباد میں جاری مسلسل بارش کے نتیجہ میں صبح کی اولین ساعتوں سے ہی شہر کی اہم اور مصروف ترین سڑکوں پر ٹریفک جام کی شکایات کے ساتھ پانی جمع ہونے کے سبب ہونے والی مشکلات کا شہریوں کو سامنا کرنا پڑا۔ دونوں شہرو ں حیدرآباد وسکندرآباد میں گذشتہ شب سے وقفہ وقفہ سے ہلکی اور تیزبارش کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر ی علاقوں میں جاری بارش کے سبب صبح بچوں کو اسکول پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود اسکولوں میں حاضری مکمل رہی کیونکہ تلنگانہ کے اسکولوں میں ششماہی امتحانات جاری ہیں اور حکومت نے محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی کے باوجود تعلیمی اداروں کو تعطیل یا امتحانات کو ملتوی کرنے کے سلسلہ میں کوئی اعلان نہیں کیاتھا۔ شہر حیدرآباد میں جاری بارش کے سبب انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ آئی ٹی مرکز مادھاپور‘ گچی باؤلی ‘ مائنڈ اسپیس کے علاوہ دیگر کئی علاقوں میں صبح ٹریفک جام کی شکایات موصول ہوئی اور آئی ٹی کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والوں کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔ مذکورہ علاقوں کے علاوہ شہر حیدرآباد کی کئی مصروف سڑکوں نامپلی ‘ ٹولی چوکی ‘ شیخ پیٹ‘ مانصاحب ٹینک‘ بیگم پیٹ‘ پنجہ گٹہ ‘ لکڑی کا پل‘ عابڈس‘ اپل ‘دلسکھ نگر‘ سکندرآباد‘ ایم جی بی ایس ‘ بنجارہ ہلز‘ آرام گھر‘ چادر گھاٹ‘ جوبلی ہلز ‘ نظام پیٹ ‘ کوکٹ پلی کے علاوہ دیگر کئی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے کے نتیجہ میں ٹریفک جام کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر میں صبح کی اولین ساعتوں میں بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے کی اطلاعات کے ساتھ ہی محکمہ آبرسانی کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور حیڈراکے عملہ نے سڑکوں سے پانی کی نکاسی کے اقدامات کا آغاز کیا لیکن اس کے باوجود بھی 11بجے دن تک شہر کی کئی سڑکوں پر ٹریفک جام رہی ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دونوں شہروں کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع میں مزید تین یوم کے دوران بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔صبح کی اولین ساعتوں میں مسلسل بارش کے سبب شہر کے میٹرو ریل اسٹیشنو ں پر مسافرین کا ہجوم دیکھا گیا اور انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں تک پہنچنے والی راہداری پر مسافرین کی بڑی تعداد نے میٹرو ریل کا استعمال کرتے ہوئے ٹریفک جام کے مسائل اور سڑکوں پر جمع پانی کی مشکلات سے محفوظ رہنے کی کوشش کی لیکن میٹرو ریل میں مسافرین کی اضافی تعداد کے سبب بھی مسافرین کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔3