دہلی اسمبلی میں کجریوال کی تحریک اعتمادمنظور

   

ڈپٹی اسپیکر سے بحث کے بعدبی جے پی کے 3 ارکان اسمبلی مکمل سیشن کیلئے معطل

نئی دہلی : دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال نے آج اسمبلی میں تحریک اعتماد پیش کی جس کو منظور کرلیا گیا ۔ بی جے پی کی جانب سے عام آدمی پارٹی حکومت کو گرائے جانے کی کوشش کے الزامات کے بعد انہوں نے یہ اقدام کیا ۔ تحریک اعتماد کے خلاف ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا کیونکہ بی جے پی کے تمام ارکان ایوان سے غیر حاضر تھے ۔ ڈپٹی اسپیکر راکھی برلا سے مباحث کے بعد بی جے پی کے 3 ارکان اسمبلی کو مکمل سیشن کیلئے ایوان سے معطل کردیا گیا ۔ بی جے پی کے ارکان تحریک عدم اعتماد پر مباحث سے قبل اپنے مطالبہ کی تکمیل کا مطالبہ کررہے تھے ۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کجریوال نے کہا کہ ایوان تحریک اعتماد اس لئے پیش کی گئی تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ آپریشن لوٹس ناکام ہوگیا ہے ۔ عام آدمی پارٹی کے کسی بھی رکن اسمبلی نے بغاوت نہیں کی ۔ بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کجریوال نے کہا کہ بی جے پی نے ہر اُس مقام پر تحقیقات کررہی ہے جہاں عام آدمی پارٹی نے اچھا کام کیا ہے ۔ کجریوال کا کہنا ہے کہ منیش سیسوڈیا کے امکانی گرفتاری کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ عام آدمی پارٹی کے ووٹ تناسب میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ منیش سیسوڈیا کے مکان اور دفتر پر سی بی آئی کے دھاوؤں کے بعد گجرات میں عام آدمی پارٹی کے ووٹ تناسب میں 4 فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور اگر منیش سیسوڈیا کو گرفتار کیا جاتا ہے تو ووٹ شیئر بڑھ کر 6 فیصد ہوجائے گا ۔ کجریوال نے کہا کہ عام آدمی پارٹی واحد پارٹی ہے جس کے 49 ارکان اسمبلی کے خلاف 69 مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔
جن کے منجملہ صرف 35 مقدمات زیر التواء ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ان کے خلاف ہی 16 مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ 16 کے منجملہ 12 مقدمات میں وہ بری ہوچکے ہیں ۔ منیش سیسوڈیا کے خلاف 13 مقدمات درج ہیں جبکہ 10 میں وہ بری ہوچکے ہیں ۔ ستیندر جین کے خلاف 4 مقدمات ہیں اور وہ دو میں بری ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اس طرح دھاوے کرواکر بی جے پی کو کیا حاصل ہوگا ۔