دہلی شراب پالیسی:منیش سیسوڈیا 5 اپریل تک عدالتی حراست میں

   

متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ایم کے ناگپال کی خصوصی عدالت کا فیصلہ
نئی دہلی: دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی (آپ) کے سینئر لیڈر منیش سیسوڈیا کو ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد آج 5 اپریل تک عدالتی حراست میں بھیج دیا ،جنہیں یہاں ایکسائز پالیسی 2021-22 میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اس سے متعلق منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ دہلی کے راوز ایونیو میں واقع ایم کے ناگپال کی خصوصی عدالت نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد سیسوڈیا کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی حراست سے عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا۔ اسی عدالت نے گزشتہ 20 مارچ کو خصوصی تفتیشی بیورو ( سی بی آئی) سے متعلق ایک معاملے میں سیسوڈیا کو 4 اپریل تک عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ ای ڈی نے سات دن کی حراست ختم ہونے کے بعد 17 مارچ کو سیسوڈیا کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا اور مزید 07 دن کی تحویل میں توسیع کرنے کی درخواست کی، لیکن عدالت نے 22 مارچ تک یعنی 05 دن کی تحویل میں دینے کی منظوری دی تھی۔ عدالت نے 51 سالہ سابق نائب وزیر اعلیٰ سیسوڈیا کو 22 مارچ کو دوپہر 2 بجے عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ 10 مارچ کو عدالت نے سیسوڈیا کو 17 مارچ تک انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی ای ڈی کی تحویل میں بھیج دیا تھا۔ اس وقت وہ سی بی آئی کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد عدالتی حراست میں تہاڑ جیل میں بند تھے ۔ سی بی آئی کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد تہاڑ جیل میں عدالتی حراست میں بند سیسوڈیا کو ای ڈی نے جیل میں طویل پوچھ گچھ کے بعد 9 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ 26 فروری کو گرفتار کیے گئے سیسوڈیا کو 6 مارچ کو سی بی آئی کی حراست کی مدت پوری ہونے کے بعد عدالت نے 20 مارچ تک عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ عدالت نے سی بی آئی کی درخواست پر مسٹر سیسوڈیا کو 4 مارچ تک مرکزی جانچ ایجنسی کی تحویل میں بھیج دیا تھا جس کے بعد اس نے مزید دو دن کی تحویل کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 28 فروری کو سیسوڈیا کی رٹ پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ عرضی گزار دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے ۔ سیسوڈیا نے راحت کی امید میں عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا، جس میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا اور سی بی آئی کی جانچ پر سوال اٹھائے تھے ۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی بنچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد سیسوڈیا کی عرضی پر غور کرنے سے انکار کردیا تھا۔ سپریم کورٹ سے راحت نہ ملنے کے بعد سیسوڈیا نے اسی دن بعد میں نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جسے قبول کر لیا گیا ۔ دہلی کی ایکسائز پالیسی 2021-2022 میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں اتوار 26 فروری کو آٹھ گھنٹے طویل پوچھ گچھ کے بعد سی بی آئی نے دیر شام سیسوڈیا کو گرفتار کیا تھا ( دہلی کی کیجریوال حکومت نے تنازعہ کے بعد اس پالیسی کو ختم کر دیا تھا)۔ سی بی آئی نے الزام لگایا تھا کہ سیسوڈیا تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے تھے ، اس لیے انہیں گرفتار کیا گیا۔