عام آدمی پارٹی کی کامیابی کے بعد کے سی آر کے حوصلے بلند ، بی جے پی کو عوامی عدالت میں ٹھہرانے کی حکمت عملی
حیدرآباد۔20فروری(سیاست نیوز) دہلی میں کجریوال کے بعد اب مرکزی حکومت کے نشانہ پر کے سی آر ہیں اور مرکزی حکومت ریاست تلنگانہ سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کو حاصل ہونے والی کامیابی کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے حوصلوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور وہ اس بات کا فیصلہ کرچکے ہیں کہ ریاست تلنگانہ کے ساتھ مرکز کی جانب سے اختیار کردہ سوتیلے سلوک کو عوام کے سامنے لائیں گے کیونکہ مرکزی حکومت تلنگانہ کو فراہم کی جانے والی گرانٹ اور ٹیکس میں حصہ کے معاملہ میں عوام کو گمراہ کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین کی جانب سے یہ الزامات واضح طور پر عائد کئے جا رہے ہیں کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار والی ریاستوں کو اضافی رقومات کی اجرائی و تخصیص عمل میں لائی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ اب چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنی شروع کردی ہے تاکہ بی جے پی کو راست عوامی عدالت میں لا کھڑا کیا جاسکے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے گذشتہ ایک سال سے اس بات کی شکایت کی جا رہی ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدہ کے مطابق ریاست کو درکار بجٹ کی فراہمی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے بلکہ ریاست کو ٹیکس کا حصہ جاری کرنے میں بھی تاخیر سے کام لیا جا رہاہے جو کہ ریاست کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بنا ہوا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کی جانب سے مرکزی بجٹ 2020میں تلنگانہ کے لئے مختص کردہ فنڈس کو معمولی اور ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے ریاست تلنگانہ کے ساتھ نانصافی قرار دیا اور کہا کہ اس طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی علاقائی جماعتوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں دو مرکزی وزراء بشمول مرکزی وزیر فینانس مسز نرملا سیتا رامن کے علاوہ مسٹر پیوش گوئل نے شہر حیدرآباد کا دورہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کو نشانہ بنایا تھا اور یہ دعوی کیا گیا تھا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ کی ترقی کیلئے خاطر خواہ فنڈس کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے لیکن اس کے برعکس ریاستی حکومت مرکز کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ترقیاتی کاموں میں رکاٹیں پیدا کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کر رہی ہے اور اپنی ناکامیوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے گلے ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔