دہلی فساد : تحقیقات میں لاپرواہی پر پولیس کو جرمانہ

   

نئی دہلی : دہلی فسادات کے کیس میں یہاں کی ایک عدالت نے دہلی پولیس کو اُس کی لاپرواہی اور تحقیقات کو عملاً مذاق بنادینے پر جرمانہ عائد کیا ہے اور کہاکہ پولیس فورس اپنی دستوری ذمہ داریاں نبھانے میں بُری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ دہلی پولیس فبروری 2020 ء کے فسادات کی تحقیقات کررہی ہے جس میں 53 افراد نے اپنی جانیں گنوائیں۔ یہ معاملہ اُس وقت نمایاں ہوا جب کئی ریٹائرڈ ججوں نے کہاکہ تحقیقات بے سمت ہوچکی ہیں۔ ان فسادات میں ایک شخص محمد ناصر کی بائیں آنکھ چلی گئی، اُسے بندوق کی گولی لگی تھی۔ اِس تعلق سے مجسٹریٹ کی عدالت نے حکمنامہ جاری کیا تھا۔ دہلی پولیس نے اِس حکمنامہ کے جواز کو چیلنج کیا۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی تھی کہ ناصر کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی جائے لیکن پولیس نے اِس حکم کی تعمیل نہیں کی۔ مقامی عدالت کے جج ونود یادو نے پولیس کی پٹیشن خارج کردی اور اُن پر 25 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا۔ ایڈیشنل سیشنس جج نے ہدایت دی کہ یہ جرمانہ بھاجن پورہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او اور اُن کے نگرانکار عہدیداروں سے وصول کیا جائے۔ پولیس کا موقف رہا ہے کہ اِس معاملہ میں علیحدہ ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ پولیس نے پہلے ہی ایک ایف آئی آر درج کر رکھی ہے۔ نیز ناصر پر فائر کرنے والے ملزمین کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔