پولیس کی زیادتیوں کا شکار،خوف کا ماحول ، منہ کھولنے پر خطرہ بڑھ جائے گا
نئی دہلی : دہلی فسادات کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔فساد سے متاثرہ علاقوں میں آج بھی خوف کا سایہ ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں لگاتار دھمکیاں مل رہی ہیں۔ محمد ممتاز کو آج بھی اپنی جان کا ڈر لگا رہتا ہے۔ کھجوری خاص کے علاقہ میں مسلمانوں کے تقریباً 40 گھروں اور دکانوں کو آگ لگادی گئی تھی۔ کئی متاثرین ہیں جنھیں آج بھی پولس پریشان کر رہی ہے۔دہلی فسادات کے دوران جلائے یا برباد کر دیئے گئے گھروں، کارخانوں، گاڑیوں اور دکانوں کے لیے بیمہ کمپنیوں نے کتنے پیسے دیئے، کل کتنے دعوے کیے گئے اور کتنے زیر غور ہیں، اس بارے میں سیدھے سیدھے کوئی جانکاری نہیں ہے۔ حالانکہ دہلی حکومت کی طرف سے کئی دعوے کیے جا رہے ہیں۔ فسادات میں جتنی گاڑیاں جلائی گئیں، ان میں بیشتر دوپہیہ تھے اور یہ مانا جا سکتا ہے کہ ان کا بیمہ تو رہا ہی ہوگا۔ لیکن بہت سی دکانیں، مکانات اور مساجد کا تو بیمہ نہیں رہا ہوگا، یہ بات یقینی ہے۔گزشتہ سال 23 فروری کو فسادات شروع ہوئے اور اگلے سات دنوں تک شمال مشرقی دہلی نے کافی کچھ دیکھا اور برداشت کیا۔ گزشتہ سال مارچ کے پہلے ہفتہ کے پولس ریکارڈ بتاتے ہیں کہ 79 گھروں کو پوری طرح اور 168 گھروں کو کافی حد تک جلا دیا گیا۔ 500 گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا کر دیا گیا اور 327 دکانوں کو لوٹنے کے بعد تہس نہس کر دیا گیا۔ ان کے علاوہ پانچ گوداموں، چار مساجد، تین کارخانوں اور دو اسکولوں کو بھی فسادیوں نے کافی نقصان پہنچایا۔ اس خوفناک منظر کے ایک سال بعد بھی فساد متاثرین اپنی زندگی کو پٹری پر لانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ فساد اور تشدد ہندوستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پھر بھی معاوضے اور باز آبادکاری کا کوئی طے عمل نہیں ہے۔ حکومت نے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا، انھیں خیرات کے بھروسے رہنے کو مجبور کر دیا۔ یہ دہلی میں تین دہائیوں کا سب سے اندوہناک فرقہ وارانہ فساد تھا جس میں 53 لوگوں کی جان گئی اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔فساد متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف فساد کے شکار ہوئے بلکہ پولس بھی انھیں ہی پریشان کرتی رہی۔ سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون) کے خلاف مظاہرہ کرنے والے دانشوروں اور طلبا پر سڑک جام کرنے، اشتعال انگیز تقریر کرنے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔