غنڈوں کی ٹولی کو باہر سے بلایا گیا تھا، ہر درد مند دل رکھنے والوں سے متاثرین کی مدد کرنے کی اپیل
اگرتلہ۔11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) تریپورہ کے سابق وزیر اعلی مانک سرکار نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر دہلی تشدد کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ یہ حملے کی سازش مرکزی حکومت نے ہی تیار کی تھی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ فساد متاثرین کی بھرپور مدد کریں۔ انہوں نے دہلی انتظامیہ کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ فسادات پر قابو پانے دہلی انتظامیہ بالکلیہ ناکام ہوگیا جس میں 53 افراد ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ غنڈوں کی ٹولی کو باہر سے بلایا گیا تھا جس کے بعد غنڈوں نے دوکانات اور مکانات کو نہ صرف لوٹا بلکہ انہیں آگ بھی لگادی۔ انہوں نے ایکبار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منصوبہ بند سازش تھی جو فرقہ وارانہ منافرت کا نتیجہ تھی۔ مانک سرکار نے اس موقع پر ہردردمند دل رکھنے والوں سے اپیل کی کہ وہ فساد متاثرین کی دامے درمے اور سخنے مدد کے لیے آگے آئیں۔ مانک سرکار فی الوقت قائد اپوزیشن ہیں، نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ خاطیوں کے خلاف اب تک کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی۔ دوسری طرف پارٹی کے دیگر قائدین نے بتایا کہ سی پی آئی (ایم) کے جہد کار فنڈ جمع کرنے کی اپنی مہم آئندہ کچھ دنوں تک جاری رکھیں گے۔ دہلی فسادات میں 200 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ایسے کئی خاندان ہیں جو بے گھر ہوگئے۔ کاروبار اور تجارت ٹھپ پڑگئے کیوں کہ شرپسندوں نے مسلمانوں کی دوکانات اور دیگر کاروبار کو تہنس نہس کردیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایکبار پھر ضروری ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات 24 فروری تا 26 فروری جاری رہے جہاں اشوک نگر کی ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے مینار پر شرپسند کچھ اس طرح سے چڑھتے نظر آئے جس طرح 1992ء میں کارسیوکوں نے بابری مسجد کے گنبدوں پر چڑھائی کی تھی۔ اب تک 700 کیسز درج کئے گئے ہیں اور زائد از 2400 افراد کو یا تو گرفتار کیا گیا ہے یا حراست میں رکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جاریہ ماہ کے اوائل میں دہلی کے نائب وزیراعلی منیش سیسوڈیا نے بتایا تھا کہ 79 مکانات اور 327 دوکانات مکمل طور پر خاکستر ہوگئے تھے۔ بعض حلقوں سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دہلی انتخابات میں جس طرح بی جے پی کو کراری شکست ہوئی اس کا سیاسی انتقام لینے کے لیے یہ سازش رچی گئی تاہم اس کی توثیق نہیں ہوسکی لیکن دوسی طرف دہلی کے وزیراعلی اروند کجریوال نے بھی دہلی فسادات رکوانے یا متاثرین کی دلجوئی کے لیے کوئی موثر کردار ادا نہیں کیا جس پر ان کی کارکردگی پر بھی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ صرف کچھ روز قبل دہلی انتخابات میں کام کی بنیاد پر انتخابات جیتنے والے کجریو ال نے خود کو دہلی کا بیٹا کہا تھا اور جب اسی بیٹے نے اپنے دیگر بھائیوں کی جان بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تو کیا فائدہ؟ ترقیاتی کام چاہے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں انسانی جان سے بڑھ کر نہیں۔ کجریوال نے اپنے آپ کو ایک کام کرنے والا وزیراعلی ثابت تو کردیا لیکن درد مند دل رکھنے والا وزیراعلی بننے میں ناکام ہوگئے جس کا جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ یہاں تک کہ ان کے (کجریوال) سرپرست انا ہزارے بھی معلوم ہوتا ہے بہت گہری نیند میں ہیں۔ وہ ہمیشہ مرکز میں کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہی نیند سے جاگتے ہیں۔