مسلمانوں کے کاروبار نشانہ، اقلیتوں کی جانی و مالی موت، سیاست ٹیم کا متاثرہ علاقوں میں دورہ
سیاست ملت فنڈ ۔ فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے امداد کی عنقریب تقسیم
(ظہیرالدین علی خان کی رپورٹ)
حیدرآباد/ نئی دہلی۔ 19 مارچ : ملک کے دارالحکومت دہلی میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت فسادات برپا کروائے گئے جن میں مسلمانوں کے جان و مال کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ مساجد پر زعفرانی جھنڈے لہرائے گئے۔ دوکانات و مکانات کو نذر آتش کیا گیا اور اس سے پہلے فرقہ پرست درندوں نے ان مکانات اور دوکانات کو بڑی بے شرمی سے لوٹا۔ ان فسادات میں 52 سے زائد لوگ اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے اور ان میں بھی غریب مسلمانوں کی اکثریت ہے جبکہ ابتدائی جائزوں سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ مسلمانوں کی دوکانات و تجارتی اداروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جن میں ان کی معیشت تباہ و برباد ہوگئی۔ بہ الفاظ دیگر دہلی میں غریب مسلمان جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور مال سے بھی محروم ہوگئے۔ کچھ اولاد سے بھی محروم ہوگئے۔ اس طرح دہلی میں مسلمانوں کی جانی و مالی طور پر موت ہوئی ہے۔ فسادات کے دوران مسلمانوں کو جہاں فرقہ پرست درندوں کی درندگی کا سامنا رہا وہیں پولیس کے تعصب اور جانبداری سے بھی وہ متاثر رہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ نے بھی دہلی فسادات متاثرین کی مدد کا بیڑا اُٹھایا ہے اور منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیرالدین علی خاں فی الوقت دہلی کے دورہ پر ہیں اور وہ دہلی فسادات کے دوران بیچارے غریب مسلمانوں کو ہوئے مالی نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس دوران دہلی کے بعض علاقوں میں دیکھا گیا کہ خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ کل تک جو لوگ خوشحال زندگی گزار رہے تھے جن کا کاروبار زوروں پر چل رہا تھا آج وہ مالی طور پر تباہ و برباد ہوگئے۔ کاروبار کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں سوائے جلی ہوئی راکھ کے کچھ باقی نہیں رہا۔ کئی ایسے خاندان بھی ہیں جو اپنے اہم ارکان سے محروم ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف فسادات میں تباہ حال ایسے لوگ جنھوں نے کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے، وقف بورڈ اور پولیس انھیں ان کیمپوں سے بھی محروم رکھنا چاہتی ہے۔ اس کے لئے دہلی پولیس کا رویہ غیر انسانی ہے جو کسی مقام پر 50 سے زائد افراد کے جمع نہ ہونے کا بہانا بناکر ان مظلومین کو عارضی قیامگاہوں سے بھی محروم کرنا چاہتی ہے۔ عارضی کیمپ میں مقیم ایک زخمی نوجوان نے جن کے بھائی کو فسادیوں نے شہید کردیا تھا، بتایا کہ ابھی تک کہیں سے کوئی مدد نہیں آئی۔ وقف بورڈ نے ایک لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا اعلان کیا لیکن فارمس داخل کرنے کے باوجود مالی امداد حوالہ نہیں کی گئی۔ اس شخص نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کے مقتول بھائی کے چار چھوٹے بچے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ مصطفیٰ آباد کیمپ وقف بورڈ اور دہلی حکومت کی جانب سے قائم کیا گیا ہے۔ دوسری طرف دہلی میں ایسے کئی مسلم تاجرین ہیں جو شاہ سے فقیر ہوگئے اور ان کی زندگی بھر کی کمائی فسادات کی نذر ہوگئی۔ دوکانات جلے ہوئے سامانوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئیں۔ صرف جسم پر موجود کپڑے باقی رہ گئے۔ ایک گلاس ہاؤس کے مالک محمد وسیم اور ان کے بھائی کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے بھی اب تک کوئی مدد نہیں آئی ہے۔
( ایف آئی آر درج کی گئی، انکوائری بھی ہوگئی ہے۔ امداد کب ملے گی کہا نہیں جاسکتا۔ ٹی وی اسپیر پارٹس، ہوم تھیٹر ایل ای ڈی وغیرہ کی شاپ کو بھی فسادیوں نے خوب لوٹا اور پھر آگ لگادی جس سے اس شاپ کے مالکین کو 15 تا 20 لاکھ روپئے کا نقصان ہوا۔ ان لوگوں نے بتایا کہ دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے لئے کم از کم 10 لاکھ روپئے درکار ہیں۔ واضح رہے کہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے دہلی فسادات کے متاثرین کے لئے ملت فنڈ کے تحت مدد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کارخیر میں ہمیشہ کی طرح فیض عام ٹرسٹ بھی شامل ہوگیا۔ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ نے بتایا کہ اسے تاحال عطیہ دہندگان نے تقریباً 38,93,909 روپئے کے عطیات دیئے ہیں جبکہ سیاست ملت فنڈ میں ہمدردان ملت نے تقریباً 42 لاکھ روپئے جمع کروائے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ نے جن لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے ہیں پہلے ان کی مالی مدد کا بیڑہ اُٹھایا ہے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کے عطیہ دہندگان اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ دونوں ادارے قابل بھروسہ ہیں اور مستحقین تک امداد پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ بہرحال جناب ظہیرالدین علی خاں دہلی میں نقصانات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور اس جائزہ کی بنیاد پر امداد کی تقسیم عمل میں آئے گی۔