نئی دہلی: بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر حملے کا بہانہ بناکر بدلہ لینے کے لیے دہلی میں روہنگیا مسلمانوں پر حملے کئے گئے۔ کانگریس کے لیڈر کنہیا کمار کو تھپڑ مار کر سرخیوں میں آئے مبینہ گاؤرکھشک دکش چودھری اور اسکے ساتھیوں نے یہ حملے کئے۔ انسٹاگرام پر دکش نے اسے قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جو کیا اس کے لیے کوئی پچھتاؤا نہیں ہے۔ حملے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رات کے وقت 5-6 لوگ ہاتھوں میں لاٹھیاں لئے کچرے کے ڈھیروں کے درمیان رہنے والے روہنگیا مسلمانوں پر حملے کرتے ہیں۔ لاٹھیوں سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گالیاں دیتے ہوئے انہیں جگہ خالی کرنے اور بنگلہ دیش واپس جانے کو کہہ رہے ہیں۔ حملہ کرتے وقت دکش کہتا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی بیٹیوں کے ساتھ عصمت دری ہورہی ہے ۔ حکومت چپ بیٹھی ہے، تنظیمیں چپ بیٹھی ہیں۔روہنگیا مسلمانوں کو پیٹنے کے بعد دکش نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام پوسٹ کرتے ہوئے کہاکہ جو کیا اس کے لیے کوئی افسوس نہیں ہے، کیونکہ بنگلہ دیش میں جن بہنوں کے ساتھ عصمت دری ہوئی، جن ہندوؤں کو مارا گیا، مندر توڑے گئے وہ سب میرے اپنے تھے، ہر ہندوستانی کے تھے۔ کیوں مارا گیا انہیں، کیوں عصمت دری ہوئی کیونکہ وہ ہندو تھے۔ اپوزیشن خاموش ہے، بالی وڈ خاموش ہے، یہ وہی بالی وڈ ہے جو حماس کی حمایت کرتا ہے لیکن جب ہندووں پر بربریت ہوتی ہے تو خاموش رہتا ہے۔ ہم نے شروعات کر دی ہے، باقی اب کیا کرنا ہے ہندوستان کے نوجوانوں، تنظیموں کو یہ آپ کو پتہ ہے۔