دہلی میں مسلم شادیوں کے لازمی رجسٹریشن قانون سے شریعت کی خلاف ورزی

   

ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ترمیم نہیں، عائلی مسائل میں مسلمان سرکاری قوانین پر عمل آوری کے پابند
حیدرآباد۔5۔مئی (سیاست نیوز) نئی دہلی میں شادیوں کے لازمی رجسٹریشن سے متعلق حکومت کے نئے قانون سے مسلمانوں کو شادی ، طلاق ، وراثت اور دیگر امور کے سلسلہ میں مسلم پرسنل لا کے بجائے حکومت کے قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔ دہلی حکومت نے غیر ہندو افراد کیلئے شادیوں کے لازمی رجسٹریشن کا خصوصی قانون بنایا ہے ۔ اس قانون سے مسلمانوں کو مسلم پرسنل لا کے تحت فیصلوں میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ مسلمانوں کے عائلی مسائل کا حل عام طورپر شریت کے تحت کیا جاتا ہے اور مسلم پرسنل لا کو عدلیہ نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ دہلی حکومت نے لازمی طورپر شادیوں کے رجسٹریشن کا قانون وضع کرتے ہوئے مسلمانوں کو مسلم پرسنل لا ترک کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ دہلی حکومت غیر ہندو افراد کی شادیوں کا رجسٹریشن خصوصی میریج ایکٹ 1954 ء کے تحت کر رہی ہے۔ اس قانون کی بعض دفعات کے تحت مسلمانوں کو اپنے عائلی مسائل کے سلسلہ میں شریعت کے بجائے حکومت کے قانون کو اختیار کرنا ہوگا۔ دہلی میں شادیوں کا رجسٹریشن کرانے والے بیشتر افراد اس قانون کے منفی اثرات سے واقف نہیں ہیں۔ اس قانون سے فوری طورپر نہ سہی لیکن دیرپا منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ طلاق کے حصول یا پھر وراثت کی تقسیم کے معاملہ میں یہ قانون شرعی قانون ٹکراتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے 2006 ء میں شادیوں کے لازمی رجسٹریشن کیلئے حکومتوں کو قانون سازی کی ہدایت دی تھی جس کے بعد 2014 ء میں دہلی حکومت نے لازمی رجسٹریشن کا قانون منظور کیا جس کے تحت دہلی میں انجام دی جانے والی شادیوں کا اندرون 6 ماہ رجسٹریشن لازمی ہیں اور مدت گزرنے کے بعد ایک ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔ عدم رجسٹریشن کی صورت میں میریج سرٹیفکٹ کی اجرائی عمل میں نہیں آئے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قانون کے تحت غیر ہندو جوڑوں کو لازمی رجسٹریشن کیلئے پابند کیا گیا ہے جبکہ ہندو اور سکھ جوڑے اپنے پرسنل لا یا پھر حکومت کے قانون کے تحت رجسٹریشن کیلئے اختیار رکھتے ہیں۔شادی ، طلاق اور وراثت سے متعلق مسائل میں شریعت کے بجائے حکومت کے قوانین کے تحت فیصلوں کی پابندی پر مسلم سماج میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ کیرالا حکومت نے بھی لازمی رجسٹریشن کا قانون منظور کیا لیکن پرسنل لا کے تحت رجسٹریشن کی گنجائش کو برقرار رکھا ہے۔ مسلم شادیوں کے رجسٹریشن کیلئے لازمی قانون کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ 4 اکتوبر 2021 ء کو عدالت نے دہلی حکومت کے وکیل کے اس تیقن پر معاملہ کی یکسوئی کردی کہ حکومت مسلم شادیوں کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں شرعی احکام پر عمل آوری کی اجازت دے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کو پرسنل لا کے تحت انجام پانے والی شادیوں کو لازمی رجسٹریشن قانون کے تحت درج کرانے کا اختیار نہیں ہے۔ دہلی حکومت کے عدالت میں تیقن کو 18 ماہ گزر گئے لیکن حکومت نے ترمیمی احکامات جاری نہیں کئے۔ یہ معاملہ توہین عدالت کے تحت دوبارہ رجوع کیا جاسکتا ہے۔ حکومت ترمیمی احکامات کے ذریعہ مسلم خاندانوں کو شریعت پر عمل کرنے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ر