دہلی میں کشتی آہستہ آہستہ دم توڑ نے لگی

   

نئی دہلی، 4 فروری (آئی اے این ایس)کبھی پرانی دہلی کی پہچان سمجھے جانے والے روایتی کشتی کے اکھاڑے تماشائیوں کے نعروں، پہلوانوں کے ٹکراؤ اور مٹی کی مخصوص خوشبو سے گونجتے رہتے تھے لیکن آج ان میں سے کئی مقامات ویران پڑے ہیں اور ان کی روایت ماند پڑتی جا رہی ہے،کیونکہ شہر کی کھیلوں کی ثقافت بدل رہی ہے اور دیسی کشتی میں عوامی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔ایک سابق ہندوستانی پہلوان نے کہا کہ وہ دوریاد کیا جب جامع مسجد، پرانی دہلی کے قریب لگنے والے دنگلوں میں لوگوں کا جمِ غفیر امڈ آتا تھا۔انہوں نے کہا لوگ صرف مقابلے دیکھنے کے لیے شہرکے کونے کونے سے آیا کرتے تھے۔ یہ محض کھیل نہیں تھا بلکہ برادری، فخر اور روایت کا امتزاج تھا۔ تاہم کورونا وبا کے بعد اس زوال میں تیزی آگیا۔ لاک ڈاؤن کے باعث تربیتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، مقامی مقابلے بند ہوئے اورکئی اکھاڑے مالی بحران کا شکار ہوگئے۔ مستقل مدد نہ ملنے کے باعث متعدد اکھاڑے بند ہوگئے یا اب پہلے کے مقابلے میں نہایت محدود پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔ پہلوان کے مطابق ایک اور تشویشناک سبب ’’فکسڈ‘‘ مقابلوں کا بڑھتا رجحان بھی ہے۔انہوں نے الزام لگایا،جب تماشائیوں کو محسوس ہونے لگا کہ کچھ مقابلے طے شدہ ہیں اور ان میں سٹے بازی شامل ہے تو اعتماد ٹوٹ گیا۔ شائقین سمجھدار ہوتے ہیں، وہ فوراً پہچان لیتے ہیں جب کچھ غیر حقیقی ہو۔ان کے بقول ساکھ کے اس نقصان نے کئی پرانے چاہنے والوں کو دورکردیا۔اس افراتفری میں سب سے زیادہ نقصان حقیقی صلاحیتکو پہنچا ہے۔ باصلاحیت نوجوان پہلوان، جو کبھی اکھاڑوں کو قومی سطح تک پہنچنے کی سیڑھی سمجھتے تھے، اب مواقع اور مالی تعاون نہ ملنے کے باعث دوسرے کھیلوں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔