دہلی میں کورونا وائرس سے فوت 200 نعشوں کو لیجانے والے ایمبولنس ڈرائیور

,

   

Ferty9 Clinic

عارف خان بھی کورونا سے شہید

انسانیت کی خدمت کے لیے جان قربان

نئی دہلی۔ کورونا وائرس سے شدید متاثرہ دارالحکومت دہلی اور ملک کے کئی حصوں میں اس سال مارچ سے ہی ہزاروں انسانی جانیں ذائع ہونے لگیں۔ کورونا سے فوت نعشوں کو ان کی آخری منزل تک پہنچانے میں مصروف ایمبولنس ڈرائیور عارف خان بھی کورونا سے شہید ہوگئے۔ دالحکومت دہلی میں انہوں نے انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان گنوادی۔ عارف خان ایک ایمبولنس ڈرائیور تھے۔ انہوں نے کورونا کے مریضوں کے لیے اپنی خدمت وقف کردی تھی۔ وہ مریضوں کو ان کے گھروں سے دواخانے لانے اور کورونا سے فوت افراد کی نعشوں کو شمشان گھاٹ، قبرستانوں تک پہنچانے کے لیے دن رات مصروف تھے۔ مارچ سے 48 سالہ عارف خان نے کورونا سے فوت 200 افراد کی نعشوں کو ان کی آخری منزل تک پہنچایا اور وہ خود 3 اکٹوبر کو کورونا سے متاثر ہوئے۔ ان کا کووڈ ٹسٹ پازیٹیو پایا گیا۔ ہفتے کی صبح انہوں نے ہندورائو ہاسپٹل میں آخری سانس لی۔ ان کی خدمات شہید بھگت سنگھ سیوادل نے حاصل کی تھی جو ایک این جی او ہے۔ اس این جی او نے دہلی اور اطراف کے علاقوں میں مفت ایمرجنسی خدمات فراہم کی تھیں۔ عارف خان نے اس این جی او سے وابستہ ہوکر وہ کورونا سے مرنے والے ہر فرد کو آخری رسومات کے لیے لیجاتے لیکن ان کے ارکان خاندان اپنے عزیز کی نعش دیکھنے تک نہیں آتے تھے۔ چند لوگ ہی ایسے تھے جو اپنے عزیزوں کی نعش چند گز کی دوری پر ٹھہر کر چند منٹ دیکھتے اور چلے جاتے۔ آخری رسومات انجام ہونے تک بھی یہ لوگ وہاں نہیں ٹھہرتے۔ سیوادل کے بانی جتیندر سنگھ شنٹی نے کہا کہ عارف خان نے مارچ سے اب تک تقریباً 200 نعشوں کو اپنی ایمبولنس میں پہنچایا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران عارف خان نے ایمبولنس میں اپنے شب روز گزارے۔ وہ شمال مشرقی دہلی کے سلیم پور میں واقع اپنے گھر سے 28 کیلومیٹر دور پارکنگ لاٹ میں رہتے تھے۔ فون پر ہی اپنی اہلیہ اور 4 بچوں سے بات کرتے تھے۔ ایک طرح سے عارف خان 24×7 کال پر ہمیشہ حاضر رہتے تھے۔ نہ صرف انہوں نے اپنی گاڑی کو مفت خدمت کے لیے پیش کیا بلکہ کئی نعشوں کی آخری رسومات کے لیے پیسا بھی جمع کیا۔ اگر کوئی خاندان اپنے عزیز کی آخری رسومات انجام دینے کے لیے نہیں پہنچتا تو اس کے لیے عارف خان خود پیسے جمع کرکے انتظام کرتے۔ بلا لحاظ مذہب وہ آخری رسومات کو پورے مذہبی طریقے سے انجام دیتے۔ جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ اگرچہ کہ وہ مسلمان تھے لیکن انہوں نے ہندوئوں کی نعشوں کی آخری رسومات انجام دینے میں مدد کی۔ سیوادل ان کے جذبہ انسانیت پر مبنی کام کی ستائش کرتا ہے۔ گروتیج بہادر ہاسپٹل نے حال ہی میں ایک ستائشی مکتوب لکھ کر اس این جی او سے اظہار تشکر کیا ہے۔ اس این جی او نے دواخانے سے تقریباً 300 نعشیں منتقل کی ہیں۔ سیوا دل کو 1995ء میں قائم کیا گیا تھا۔ عارف خان ماہانہ 16ہزار روپئے کماتے تھے۔ وہ اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرنے والے واحد رکن تھے۔ ان کے گھر کا کرایہ ماہانہ 9 ہزار روپئے ہے۔ اب ان کے دو فرزندان چھوٹے موٹے کام کرکے خاندان کی مدد کررہے ہیں۔