دہلی پولیس کی الیکشن کے بعد دوبارہ جارحانہ روش

,

   

l جامعہ ملیہ کے CAAاحتجاجیوں کو پارلیمنٹ پہونچنے سے روک دیاگیا
l احتجاجیوں کیساتھ جھڑپ ، بعض طلبہ زخمی ، چند دیگر گرفتار

نئی دہلی ۔ 10 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام)جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء اور جامع نگر کے مقامی افراد نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جامعہ ملیہ سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کی کوشش کی ۔ پولیس نے کہا کہ پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کی احتجاجیوں کو اجازت نہیں ہے ۔ تاہم طلباء اور مقامی افراد نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا اور نعرے لگاتے رہے کہ ’’کاغذ نہیں دکھائیں گے ‘‘۔ ’’جب نہیں ڈرے گوروں سے تو کیوں ڈرے ہم اوروں سے‘‘۔ احتجاجیوں نے راستہ کی دو جانب انسانی زنجیر بنائی ۔ احتجاجی خواتین ہاتھوں میں قومی پرچم تھامے ہوئے ’’ہلہ بول‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل پڑے ۔ ایک برقعہ پوش خاتون نے کہاکہ تقریباً دو ماہ سے وہ احتجاج کررہے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے ان سے بات چیت کیلئے کوئی آگے نہیں آیا ، اس لئے حکومت سے بات کرنے وہ پارلیمنٹ تک جانا چاہتے ہیں۔ پولیس نے احتجاجیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی ۔ بعض احتجاجی بریکٹس سے پھلاند کر پارلیمنٹ کی سمت بڑھنے لگے ، اس موقع پر احتجاجیوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی کی نوبت آگئی ۔ جامعہ ملیہ کے پروکٹر وسیم احمد خاں نے طلباء سے منتشر ہوجانے اور پولیس کے ساتھ نہ اُلجھنے کی اپیل کی ۔ انھوں نے قانون کا احترام کرنے اور یونیورسٹی کو واپس ہونے کی سبھی طلباء سے اپیل کی ۔