دہلی کی ’دم گھونٹنے والی فضا‘میں پیر سے طاق اور جفت فارمولہ نافذ

   

نئی دہلی4نومبر(سیاست ڈاٹ کام )خطرناک سطح کی فضائی آلودگی کی گرفت میں ‘چھٹپٹاتی’ قومی دارالحکومت میں پیر کی صبح آٹھ بجے سے طاق اور جفت منصوبہ نافذ ہوگیا اور اس دوران سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کم دیکھی گئی۔وزیراعلی اروند کجریوال اور دہلی کے وزیر تعلیم منیش سیسودیا فضائی آلودگی کے تئیں بیداری کی مثال پیش کرتے ہوئے سائکل سے دفتر پہنچے ۔ کجریوال نے ٹویٹ کرکے لوگوں سے اپنے بچوں اور شہر کے لئے اس منصوبے پر عمل کرنے کی اپیل کی ۔انہوں نے سرکاری مشینری سے بھی یہ یقینی بنانے کو کہا کہ پابندی کی وجہ سے کسی کو بلاوجہ کوئی پریشانی نہ ہو۔مسٹر کجریوال نے کہا،’’نمستے دہلی! آلودگی کم کرنے کے لئے آج سے طاق -جفت شروع ہورہا ہے ۔اپنے لئے ،اپنے بچوں کی صحت کے لئے اور اپنے کنبے کی سانسوں کے لئے طاق -جفت پر عمل ضرور کریں۔ایک دوسرے کی گاڑی مل جل کر استعمال کریں۔اس سے دوستی بڑھے گی،رشتے بنیں گے ،پٹرول بچے گا اور آلودگی بھی کم ہوگی۔دہلی پھر کر دکھائے گی‘‘۔یہ منصوبہ 15نومبر تک صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک نافذ ہوگا۔آج جفت نمبر والی گاڑیوں کو سڑکوں پر اترنے کی اجازت ہے ۔ٹریفک پولیس نے آج صبح ایک شخص کا چالان بھی کاٹا ہے ۔ کجریوال نے قومی دارالحکومت میں طاق۔جفت منصوبہ نافذ ہونے سے کچھ ہفتے پہلے 12اکتوبر کو یہ اعلان کیاتھا کہ سلامتی کے پیش نظر خواتین ڈرائیوروں کو اس میں راحت دی جائے گی۔انہوں نے کہا تھا کہ اس منصوبہ سے ان کاروں کو راحت دی جائے گی،جن میں خواتین ڈرائیور اکیلی ہوں گی،ان میں صرف خواتین ہوں گی اور ان کے ساتھ 12سال سے کم عمر کے بچے ہوں گے ۔جبکہ ٹو ویلر چلانے والوں کو اس منصوبے سے راحت دی گئی ہے ۔اس بار پرائیویٹ سی این جی گاڑیوں کواس منصوبے میں شامل کیاگیا ہے ۔یہ منصوبہ دہلی حکومت ‘سیون پوائنٹ ونٹرایکشن پلان’ کے تحت سردیوں میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لئے لارہی ہے ۔وزیراعلی نے دہلی کے عوام سے اس بار دیوالی کے موقع پر پٹاخے نہ جلانے کی اپیل بھی کی تھی۔اس سال دہلی حکومت نے دیوالی کے موقع پر دہلی کے کناٹ پلیس علاقے میں لیزر شو کا انعقاد کیاتھا۔