زرعی قوانین کی مکمل منسوخی کے مطالبہ پر اٹل ۔ کھلے ذہن سے مذاکرات کیلئے حکومت کی ٹھوس پیشکش کا انتظار
نئی دہلی : دہلی کی سرحدوں پر شدید سردی کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے احتجاجی کسان جمعرات کو بدستور ڈٹے ہوئے ہیں اور اُن کا مطالبہ وہی ہے کہ مرکز تینوں نئے اور متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کرے۔ گہری کہر نے حد بصارت کو آج دہلی کے کئی حصوں میں محض 100 میٹر تک گھٹادیا جس سے ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اقل ترین درجہ حرارت صفدر جنگ رصد گاہ میں 4.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ اِس رصد گاہ میں ہونے والی پیمائش شہر کے لئے نمائندہ صورتحال کا درجہ رکھتی ہے۔ دہلی کی سرحدوں پر سکیوریٹی بدستور سخت ہے اور سینکڑوں سکیوریٹی پرسونل کو سنگھو ۔ غازی پور اور ٹیکری میں تعینات کیا گیا ہے جہاں ہزاروں کسان تقریباً ایک ماہ سے احتجاج اور مظاہرے کررہے ہیں۔ اِس سے ٹریفک میں خلل پڑا ہے اور پولیس کو گاڑیوں کی آمد و رفت موڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ دہلی ٹریفک پولیس نے جمعرات کو ٹوئٹر کے ذریعہ مسافروں کو اُن راستوں سے آگاہ کیا جو کسانوں کے ایجی ٹیشن کے سبب ہنوز بند ہیں اور اُنھیں متبادل راستوں سے واقف کروایا۔ پولیس نے ٹوئٹ میں کہاکہ چلّا، غازی پور سرحدوں کو نوئیڈا اور غازی آباد سے دہلی کو آنے والی ٹریفک کے لئے بند رکھا گیا ہے کیوں کہ کسانوں کا احتجاج راستے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ عوام کو دہلی آنے کے لئے متبادل راہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ایک دیگر ٹوئٹ میں پولیس نے کہاکہ سنگھو اور آؤچندی، پیاؤ منیاری، سبولی اور منگیش سرحدیں بند ہیں۔ براہ مہربانی مسافرین متبادل راہیں اختیار کریں۔ گزشتہ روز احتجاجی کسانوں نے اپنا موقف سخت کرتے ہوئے حکومت سے کہا تھا کہ بے معنی ترامیم کی تجویز کا اعادہ نہ کریں جو پہلے ہی اُن کی جانب سے مسترد کی جاچکی ہے۔ اِس کے بجائے بات چیت کے احیاء کے لئے تحریر میں کوئی ٹھوس پیشکش کی جائے۔ حکومت کی بات چیت سے متعلق پیشکش پر جواب کو ایک پریس کانفرنس میں پڑھ کر سناتے ہوئے کسان قائدین نے کہاکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ اُنھیں کوئی ٹھوس تجویز حاصل ہو۔ تاہم، اُنھوں نے واضح کردیا کہ وہ تینوں زرعی قوانین کی مکمل منسوخی اور اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے لئے قانونی ضمانت سے کم کوئی بات قبول نہیں کریں گے۔ بات چیت کیلئے چھٹا دور 9 ڈسمبر کو منسوخ کرنا پڑا تھا کیوں کہ کسان یونینوں نے تینوں قوانین کی منسوخی سے متعلق اپنے مطالبہ میں نرمی لانے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے حکومت اور احتجاجی کسانوں کے درمیان تعطل کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔