اقوام متحدہ ، 26 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوٹیرس نئی دہلی کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ زور دے رہے ہیں کہ مظاہرین کو پُرامن طور پر احتجاج کرنے کی اجازت دینا چاہئے اور سکیورٹی فورسیس تحمل کا مظاہرہ کریں، اُن کے ترجمان نے یہ بات کہی۔ شہریت (ترمیمی) قانون پر شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد نے چہارشنبہ کو تادم تحریر کم از کم 23 افراد بشمول ایک پولیس کانسٹبل کی جان لے لی اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کو فسادیوں پر قابو پانے میں مشکل پیش آرہی ہے، جو سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہیں۔ وہ دکانات کو لوٹ رہے ہیں، نذر آتش کررہے ہیں، پتھراؤ کررہے ہیں اور لوگوں پو شدید مارپیٹ بھی کررہے ہیں۔ سکریٹری جنرل گوٹیرس کے ترجمان اسٹیفن ڈویارچ نے گزشتہ روز روزانہ کی پریس بریفنگ کو بتایا: ’’میرے خیال میں یہ کافی اہم ہے کہ مظاہرین کو پُرامن احتجاج کرنے کی اجازت دینا چاہئے اور سکیورٹی فورسیس تحمل کا مظاہرہ کریں۔ یہی ایس جی (سکریٹری جنرل) کا مستقل موقف ہے۔‘‘ وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی میں تشدد کے واقعات پر اپنے پہلے ردعمل میں امن اور بھائی چارہ کیلئے اپیل کی، اور کہا کہ انھوں نے قومی دارالحکومت کے مختلف حصوں کی موجودہ صورتحال کا سیرحاصل جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سکون اور معمول کے حالات جلد از جلد بحال کرنا اہم ہے۔