نئی دہلی : اب جبکہ ملک میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے، وہیں متاثرین کی تعداد 6.6 ملین ہوگئی ہے لیکن روزانہ متاثر ہونے والوں کی تعداد میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی ہے۔ دہلی کے قدیم ترین قبرستان میں گورکن اب مزید 400 قبروں کیلئے جگہ فراہم کرنے کیلئے خود رو جھاڑیوں اور دیگر کچرے کو صاف کررہے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ نے اب مہلوکین کی تدفین کیلئے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ سب سے پہلے جدید قبرستان میں کورونا وائرس سے سب سے پہلی موت ماہ اپریل میں ہوئی تھی اور متوفی کو اسی قبرستان میں دفن کیا گیا تھا، تاہم اب تک 700 میتوں کو یہاں دفن کیا جاچکا ہے۔ اس موقع پر 38 سالہ گورکن محمد شمیم نے بتایا کہ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ موجودہ قبرستان میتوں کی تدفین کیلئے تنگ دامانی کا شکوہ کرے گا اور قبرستان میں مزید قبروں کے لئے جگہ بنائے توسیع کرنی پڑے گی۔ شمیم نے کہا کہ ہر روز میتوں کی آمد میں اضافہ ہوتا گیا اور ہمارا کام بھی بڑھتا گیا۔ اب قبرستان میں موجود اراضی کے ایک حصہ کو صاف کیا جارہا ہے جہاں مستقبل میں میتوں کی تدفین عمل میں آئے گی۔ محمد شمیم کا خاندان گزشتہ تین نسلوں سے قبریں کھودنے کا کام کرتا آرہا ہے۔ اس نے کہا کہ گزشتہ 8 ماہ سے ہم قبر میں کھود کھود کر تھک گئے ہیں۔ ہمیں بھی بعض وقت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن حکومت ہمارے بارے میں کبھی نہیں سوچتی۔ کم سے کم ہم لوگوں کو بھی حفاظتی کٹ سربراہ کرنا چاہئے۔