دہلی ہائی کورٹ نے 2002 کے گجرات فسادات پر دستاویزی فلم پر ہتک عزت کیس میں بی بی سی کو طلب کیا

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے گجرات فسادات پر بی بی سی کی متنازعہ دستاویزی فلم کے سلسلے میں گجرات کی ایک این جی او کی طرف سے دائر ہتک عزت کے مقدمے میں بی بی سی کو سمن جاری کیا۔ ہائی کورٹ میں دائر مقدمے میں کہا گیا کہ اس دستاویزی فلم سے نہ صرف وزیراعظم بلکہ عدلیہ اور پورے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ تنظیم کی طرف سے سینئر وکیل ہریش سالوے پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزی فلم نے ہندوستان اور عدلیہ سمیت پورے نظام کو بدنام کیا ہے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سچن دتہ نے یہ سمن گجرات کی ایک این جی او جسٹس آن ٹرائل کے دائر کردہ ایک مقدمے میں جاری کیا۔ اسے ستمبر کو سماعت کے لیے درج کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ یہ دلیل دی گئی ہے کہ یہ دستاویزی فلم ملک اور عدلیہ کے وقار اور وزیر اعظم کے خلاف ہتک آمیز الزامات اور ذات پات کو بدنام کرتی ہے۔ درخواست پر سمن جاری کر دیا گیا ہے۔ درحقیقت، حال ہی میں دہلی کی ایک نچلی عدالت نے بی بی سی، وکیمیڈیا فاؤنڈیشن اور انٹرنیٹ آرکائیو کو بی جے پی لیڈر بنئے کمار سنگھ کی طرف سے دائر ہتک عزت کے مقدمے میں سمن جاری کیا ہے۔ اس میں آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد سے متعلق متنازعہ دستاویزی فلم یا کسی اور مواد کی اشاعت کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔