لوجہاد کا مسئلہ پھر موضوع بحث ، مسلمانوں کو بدنام کرنے سنگھ پریوار کی منظم سازش
حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : دی کیرالا اسٹوری کے بعد اس کے مجوزہ سیکوئل دی کیرالا اسٹوری 2 کی ریلیز سے قبل ریاست کیرالا کے علاوہ ملک میں سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے ۔ کیرالا کے چیف منسٹر پنرائے وجین نے فلم کو ’ نفرت پر مبنی پروپگنڈہ ‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے کی ایک منظم سازش کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر Pinarayi Vijayan نے کہا کہ کیرالا خواندگی ، سماجی ترقی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے ملک کے لیے ایک ماڈل رہا ہے ۔ لیکن چند طاقتیں اس مثبت شبیہ کو نقصان پہونچانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ’لوجہاد ‘ جیسے معاملات کو اُچھالنا جنہیں ماضی میں تحقیقاتی ایجنسیوں ۔ عدالتوں اور وزارت داخلہ کی سطح پر مسترد کیا جاچکا ہے ۔ محض فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی فلموں کو مسترد کریں جو ریاست کے پرامن ماحول کو داغدار بناتی ہیں ۔ اس معاملے میں سیاسی صف بندی بھی دلچسپ رخ اختیار کرچکی ہے ۔ حکمران محاذ ( ایل ڈی ایف ) اور اپوزیشن اتحاد ( یو ڈی ایف ) نے باہمی اختلافات کے باوجود فلم پر مشترکہ اعتراضات کیے ہیں ۔ کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ یہ فلم کیرالا کے سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہونچاسکتی ہے ۔ چند قائدین نے اسے سنگھ پریوار کے ایجنڈے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ باہمی رضا مندی سے ہونے والی شادیوں کو منفی رنگ میں پیش کیا جارہا ہے ۔ یاد رہے کہ پہلی فلم کی ریلیز کے وقت بھی شدید تنازعہ کھڑا ہوا تھا ۔ بالخصوص 32 ہزار خواتین کے مذہب تبدیل کرنے کے دعوے پر بحث چھڑ گئی تھی اب فلم یونٹ کا کہنا ہے کہ فلم کے دوسرے سیکوئل میں کیرالا کے علاوہ دیگر ریاستوں میں مبینہ مذہبی تبدیلیوں کو بھی دیکھایا جائے گا ۔ جس کے باعث یہ تنازعہ کیرالا کی حدود سے نکل کر قومی سطح پر موضوع بحث بن چکا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 27 فروری کو ریلیز ہونے والی ’ دی کیرالا اسٹوری 2 ‘ باکس آفس پر کیا اثر ڈالتی ہے ۔ ایک طرف سخت تنقید اور سیاسی مخالفت ہے تو دوسری جانب اظہار رائے کی آزادی کا دفاع ۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ رائے زور پکڑ رہی ہے کہ سنیما کو تقسیم نہیں بلکہ یکجہتی برداشت اور مثبت سوچ کو فروغ دینے کا ذریعہ بننا چاہئے ۔۔ 2