مدرسہ عربیہ تجویدالقرآن مٹ پلی کا سالانہ جلسہ‘مفتی عامرقاسمی ودیگرعلماء کا خطاب
مٹ پلی۔8؍فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شہرمٹ پلی کا 38سالہ قدیم ادارہ مدرسہ عربیہ تجوید القرآن کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے ادارہ کی خدمات کو سراہا نیز اس سال تکمیل حفظ کرنے والے دو طلباء کو ان کے سرپرستوں اور اعزاء واقرباء کو مبارکبادیتے ہوے مولانا عبد القیوم شاکر القاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد نے کہا کہ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ تو اللہ تعالیٰ نے لے لیا ہے مگر قرآن مجید کے حقوق ادا کرنا ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ایک حق قرآن مجید کا تلاوت کرنا ہے جس سے آج اکثر وبیشتر مسلمان غافل نظر آتے ہیں ہمیں اپنی اس غفلت کو دورکرنے کی ضرورت ہے ورنہ ذلت ورسوائی سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا ہے مہمان خصوصی مولانا عبد القوی ناظم ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد نے کہا کہ ہمارے لیے سب سے بڑی نسبت اسلام کی ہے ہمیں فخر ہونا چاہئیے کہ ہم مسلمان ہیں اور اللہ کے پسندیدہ دین کو ماننے والے ہیں دنیا کی سب سے بڑی پہچان اور شناخت ہمارے لیے ہمارا دین اور مذہب ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مسعود دین مجسم ہے آپ کی ولادت سے لے کر پردہ فرمانے تک کا ہر عمل ہرقول اور ادا دین کی چلتی پھرتی تصویر اور قرآن مجید دین اسلام ہے یہی وہ قرآن ہے جو ہماری دنیاوی واخروی کامیابی کا ضامن ہے ۔ مولانا مفتی عامر قاسمی استاد دارالعلوم رحمانیہ نے مدارس کے کردار پر بات کرتے ہوے کہا کہ ان مدارسِ دینیہ کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے ان کا مالی تعاون کرکے پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرنا چاہئیے یہ دینی مدارس اسلامی اقدار کے محافظ ہیں مولانا ابرار الحسن رحمانی نے اپیل کی کہ قرآن مجید کو بکثرت تلاوت کرنے والے بنیں اس عظیم نعمت کی قدر کریں مدارس اسلامیہ اسلامی پاور ہاوس ہیں جہاں سے علماء حفاظ مساجد کے لیے ائمہ اور قوم وملت کی راہ نماء کرنے والے سپوت تیار ہوتے ہیں ناظم مدرسہ مولانا عبد الحمید قاسمی قاضی شہر نے تمام مہمانوں اور مخلص معاونین مدرسہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے بعد اس مدرسہ کی نشاۃ ثانیہ ہوئی ہے قاری محمود ودیگر اساتذہ کرام انتظامی کمیٹی کے ذمہ داران محنت کررہے ہیں شہریان مٹ پلی کا تعاون مدرسہ کو حاصل ہے۔واضح رہے کہ اس موقع پرتکمیل حفظ کرنے والے دو خوش نصیب طلبہ حافظ محمدرضوان بن محمد اعجاز‘ حافظ محمد عبدالعزیز بن محمد عبدالسلام کی دستاربندی عمل میںآئی ۔اس موقع پرنائب ناظم مدرسہ قاری محمودالحسن قاسمی ‘مولانا محمدریاض الرحمن قاسمی ‘ حافظ محمد عبدالعزیز‘ مفتی محمدابوبکر قاسمی ‘مفتی الماس دائودی ‘مفتی محمداسلم حسامی ‘ مفتی محمدبلال ‘حافظ محمدعثمان ‘حافظ عبدالمقیت ‘قاری محمد شفیع الدین ‘ قاری محمدرفیع الدین ‘حافظ عبدالمتین ‘حافظ محمد آفتاب ‘حافظ محمدمہتاب ‘ حافظ محمدزاہد‘ حافظ محمدسرورعالم ‘حافظ محمدساجد اوردیگرنے اپنا تعاون پیش کیے ۔ مرکزی انتظامی کمیٹی ملت اسلامیہ مٹ پلی اور یوتھ نوجوانوںنے اپنا بھرپور ساتھ دیا۔ ناظم مدرسہ عربیہ تحفیظ القرآن جگتیال حافظ شیخ سرور کے اختتامی کلمات اور بانی مدرسہ مولانا محمد سجادحسین قاسمی (مرحوم) وحافظ شیخ حیدر( مرحوم) کے نمایاں خدمات کاذکر و دعاء کے ساتھ جلسہ کا اختتام عمل میںآیا۔