100 مدارس کا انتخاب ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کا اعلان
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔ حکومت ہند کی جانب سے دینی مدارس میں رامائن‘ سنسکرت‘ یوگاکے علاوہ گیتا کی تعلیم دی جائے گی۔ مرکزی حکومت کے ادارہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کی جانب سے اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ ادارہ نے گذشتہ یوم ملک کے 100 دینی مدارس میں نئے نصاب کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جاریہ سال کے اواخر تک 500 دینی مدارس میں بھگوت گیتا‘ رامائن ‘ سنسکرت ‘ یوگا کے علاوہ سائنس کی تعلیم کے انتظامات کئے جائیں گے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کی جانب سے جاری کردہ نئے نصاب کو ’’ بھارتیہ جننا پرمپرا‘‘ ہندوستان تہذیبی علوم کا نام دیتے ہوئے مدارس میں متعارف کروانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ اس منصوبہ کے تحت 15 مختلف نصاب تیار کئے گئے ہیں جو کہ دینی مدارس میں متعارف کروانے کا منصوبہ ہے۔ صدرنشین نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ نے بتایا کہ دینی مدارس میں وید‘ بھگوت گیتا ‘ سائنس ‘ سنسکرت‘یوگا‘مہیشور سوترا کے علاوہ دیگر علوم کی تعلیم دی جائے گی۔ سروج شرما نے بتایا کہ اس نصاب کی تیاری کے ساتھ ہی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے اور اس پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں موجود دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے تیسری ‘ پانچویں اور آٹھویں جماعت کے معیار کے نصاب کے نام پر یہ نصاب پڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جو نصاب پڑھایا جائے گا اس میں یوگا کے مضمون میں سوریہ نمسکار‘پتانجلی کریتا سوترا‘یوگا سوترا‘ آسن‘پرانائیم کے علاوہ یادداشت کو مضبوط بنانے کی تربیت دی جائے گی جبکہ ووکیشنل اسکلس میں کاشتکاری ‘ باغبانی ‘ گائے کی صفائی ‘آرگینک فارمنگ اور آیورویدا کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ سائنس کے مضمون میں ہوا ‘ پانی ‘ اراضیات کے تحفظ کے علاوہ تخلیق کی اصل ‘پنچما بھوت و دیگر تعلیمات فراہم کی جائیں گی۔مملکتی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال کی جانب سے ان تفصیلات کو نصاب کی اجرائی کے موقع پر منظر عام پر لایا گیا ہے ۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مدارس میں اس نصاب کو روشناس کروانے کا مقصد دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ہندستانی تہذیبی تاریخ سے واقف کروانے کے علاوہ ان کی مجموعی ترقی کویقینی بنانا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ میں مزید دینی مدارس کو شامل کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے ان کے اپنے ایجنٹوں کی مدد حاصل کی جائے گی اور ایسی تنظیموں اور اداروں کے ذریعہ اس بدبختانہ تجویز کو دور حاضر کی ضرورت قرار دیا جائے گا جو کہ ہندوتوا کے ایجنٹ کے طور پر مسلمانو ں کے درمیان خدمات انجام دے رہے ہیں۔