دینی مدارس کا مستقبل خطرہ میں ، امداد کے ذریعہ مستحکم بنانا وقت کی اہم ضرورت

,

   

لاک ڈاؤن سے صدقات ، خیرات ، زکوٰۃ و عطیات وصولی سے قاصر ، مخیر حضرات آگے آئیں
حیدرآباد۔20مئی (سیا ست نیوز) دینی مدارس کا مستقبل خطرہ میں ہے جی ہاں لاک ڈاؤن کے دوران رمضان المبارک اور سرکردہ تجارتی اداروں ‘ متمول افراد اور مخیر شہریوں کی جانب سے ماہ رمضان المبارک کے دوران دینی مدارس کو جو امداد بطور صدقات‘ خیرات ‘ زکواۃ و عطیات وصول ہوا کرتی تھی اس مرتبہ سال گذشتہ کے مقابلہ 20 فیصد بھی موصول نہیں ہوپائی ہے کیونکہ مخیر و متمول حضرات ‘ تجارتی ادارو ںکے علاوہ خیراتی ادارو ںکی جانب سے ماہ رمضان المبارک سے قبل سے ہی غریب و مستحقین کی مدد کی جا رہی ہے اور لاک ڈاؤن کے سبب ہر وہ شخص مستحق بنا ہوا ہے جس کے کاروبار پوری طرح سے متاثر ہونے کے علاوہ بند ہوچکے تھے اور روزمرہ کی آمدنی سے زندگی گذارنے والوں کو شدیدمعاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا جس کے سبب ان کی مدد کا سلسلہ رمضان سے قبل ہی شروع ہوچکا ہے اور اب تک بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران دینی مدارس کو حاصل ہونے والے عطیات ‘ زکواۃ ‘ صدقات میں ریکارڈ کی جانے والی کمی کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ مسلسل لاک ڈاؤن کے سبب مستحقین کی ضرورت کو پوار کرنے کی کوششوں میں دینی مدارس امدا د سے محروم ہوئے ہیں اور ان کا معاشی استحکام ناگزیر ہے کیونکہ دینی مدارس دین کے ایسے قلعہ ہیں جہاں علوم دینیہ کے فروغ کے علاوہ دفاع اسلام کے سپاہیوں کی تربیت ہوا کرتی ہے۔ ان دینی مدارس میں وہ لوگ تیار ہوتے ہیں جو کہ اشاعت دین اور تحفظ عقائد کے علاوہ اصلاح امت کے نقیب ہوتے ہیں اسی لئے ان دینی مدارس کے استحکام کو یقینی بنانا امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے ۔ شہر حیدرآباد میں موجود سرکردہ دینی مدارس میں جامعہ نظامیہ ‘ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد‘ المعہد العالی الاسلامی ‘جامعہ اشرف العلوم ‘ دارالعلوم رحمانیہ‘فیض العلوم ‘ دارالعلوم النعمانیہ ‘ المعہد الدینیہ العربیہ کے علاوہ لڑکیوں کے مدارس جامعۃ البنات‘ جامعۃ المومنات‘ کلیۃ البنات ودیگر ہیں جن کے اخراجات ماہانہ لاکھوں میں ہیں

اور ان دینی مدارس کا مکمل انحصارامت کی جانب سے کی جانے والی اعانت پر ہوتا ہے اسی لئے امت مسلمہ کو غریبوں کی مدد کے ساتھ ساتھ دین اسلام کے ان قلعوں کی حفاظت کی جانب سے بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان مدارس دینیہ میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ اور تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ملت اسلامیہ کی ایمان و عقیدہ کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ لاک ڈاؤن کے سبب غرباء کی مدد کے ذریعہ اہل خیر نے بہت نیکیاں کمائی ہیں لیکن دینے مدارس کی بقاء کے لئے بھی انہیں اسی جذبہ کے تحت آگے آنے کی ضرورت ہے تاکہ ان دینی مدارس کو باقی رکھتے ہوئے مساجد میں امامت کے مصلوں اور منبروں کوویران ہونے سے بچانے کے اقدامات ہوسکیں اور امت میں مصلحین کی کمی نہ ہونے پائے۔ ذرائع کے مطابق لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد اب ان چھوٹے چھوٹے دینی مدارس کی کشادگی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی جو کہ شہر کے نواحی علاقوں اور اضلاع یا قریوں میں چلائے جاتے تھے اور بڑے دینی مدارس کے مسائل میں بھی زبردست اضافہ کا خدشہ ہے اسی لئے ان دینی مدارس کی مقامی طور پر مدد کے ذریعہ انہیں مستحکم بنانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔اس مقصد کے لئے مخیر حضرات کی جانب سے دینی مدارس کے اخراجات کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے ان کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے بھی اقدامات کے جانے چاہئے ۔