مظلوم فلسطینیوں کیلئے صرف دعاء کافی نہیں۔ مسلمانوں کو عملی طور پر حصہ لینے کی ضرورت
حیدرآباد۔14۔نومبر(سیاست نیوز) دیوالی تہوار کے دوران چینی ساختہ اشیاء کا بڑے پیمانے پر بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے کہ تو روزمرہ کی زندگی میں مسلمان کیوں نہیں ’اسرائیلی ‘ اشیاء کا بائیکاٹ کرسکتے ! ؟ اسرائیل کی ظالمانہ اور جارحانہ کاروائیوں کے سبب ہونے والے انسانیت بالخصوص مسلمانوں کے جانی نقصان کے خلاف اگر مسلمان اسرائیلی اشیاء کا بائیکاٹ شروع کردیں تو اسرائیل کی معیشت پر ضرب لگائی جاسکتی ہے ۔دیوالی کے دوران خرید و فروخت پر ہندوستانی اشیاء کا دبدبہ دیکھا گیا اور 3.75 لاکھ کروڑ کی خریداری میں 90 فیصد ہندستانی اشیاء کی فروخت ہوئی ہے ۔ کہا جار ہاہے کہ گذشتہ سال دیوالی کے دوران 70 فیصد چینی ساختہ اشیاء کی خرید و فروخت ہوئی تھی جبکہ جاریہ سال 90 فیصد سے زیادہ ہندوستانی اشیاء تہوار کے دوران استعمال کی گئی ہیں۔ کانفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس سے جاری تفصیلات کے مطابق دیوالی میں جملہ سے 3.75 لاکھ کروڑ کی تجارت کی گئی جس میں 90 فیصد ہندستانی مصنوعات کے استعمال کو یقینی بنایا گیا ہے۔ غزہ اور فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے اور عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اسرائیلی اشیاء کا بائیکاٹ کریں لیکن عام زندگی میں اسرائیلی اشیاء کے استعمال کے رجحان میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے بلکہ بائیکاٹ کے بجائے اس مسئلہ کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کی جانے لگی ہے جبکہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف سرگرم تنظیموں کی جانب سے اسرائیلی ساختہ اشیاء و اسرائیلی تجارتی اداروں کی نشاندہی کرکے ان کے بائیکاٹ کی متعدد اپیلیں جاری کی جارہی ہیں۔ ہندستان میں انسانیت دوست اور مسلمان اگر اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم کا حصہ بن کر اسے عملی شکل دیتے ہیںتو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کی جانب سے اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جاتی ہے اور سنجیدگی کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے تو اسرائیل پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے ۔فلسطین میں ظالمانہ کاروائیوں اور صہیونی طاقتوں کی جارحیت کے خلاف ہندوستانی مسلمان محض جذبات یا دعا کی بجائے اگر اسرائیلی اشیاء کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو اسرائیل کی معیشت کو نقصان کے نتیجہ میں اسرائیل اپنی جارحانہ کاروائیوں پر روک لگا سکتا ہے۔ دیوالی کے
موقع پر چینی ساختہ اشیاء کے استعمال کو روکنے مہم کی کامیابی کے بعد اب اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم میں شدت کی ضرورت ہے ۔
جو روزمرہ استعمال ہونے والی اشیاء کے استعمال کو ترک کرکے شروع کیا جاسکتا ہے۔