دیگلور،ناندیڑ، بیدر جدید ریلوے لائن کی منظوری کا امکان نہیں

   

Ferty9 Clinic

مرکزی وزیر ریلوے کی نظر میں مذکورہ ریلوے لائن غیر منافع بخش ، لوک سبھا میںسوال کا جواب

دیگلور :۔ گزشتہ تقریباً 15تا 20 سال سے زائد عرصے سے ناندیڑ تا بیدر براہِ دیگلورجدید بین الریاستی ریلوے لائن کا مطالبہ آخر نامنظور ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ریلوے کی نظر میں یہ ریلوے لائن معاشی اعتبار سے منافع بخش نہیں ہے۔ مسٹر پرتاپ راؤ پٹیل چکھلی کر، ایم۔پی۔(ضلع ناندیڑ) نے لوک سبھا کے مانسون سیشن میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا حلقہ پارلیمنٹ ناندیڈ ضلع اور ڈیویڑن دیگلور کی ہماجہتی ترقی کیلئے ریلوے لائن کب ہوگی۔جس میں انہوں نے مرکزی حکومت سے دریافت کیا تھا کہ پارلیمنٹ میں منظور شدہ اور بینک بک میں شائع شدہ ناندیڑ تا بیدر براہ دیگلور ریلوے لائن کا کام کب شروع ہوگا اس میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے اس کام کیلئے کتنا خرچ آئے گا اور یہ ریلوے لائن کب مکمل ہوگی؟ اس طرح سے مسٹر پرتاپ پٹیل ( ایم پی) نے چار سوال پوچھے تھے۔ مسٹر چکھلی کر ،رکن پارلیمنٹ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر ریلوے مسٹر اشوینی وائیش نو نے پارلیمنٹ کو بتلایا کہ ناندیڈ تا بیدر براہ دیگلور جدید ریلوے لائن جو سروے کے مطابق 157 کلومیٹر پر مشتمل ہے یہ لائن معاشی اعتبار سے غیر منافع بخش بتلائی گئی ہے ۔ حالانکہ دیگلور اور اس کے مضافات کی ترقی کیلئے ریلوے لائن لازمی ہے اس کیلئے سب ہی تمام سیاسی جماعتوں اور ہر مکتب خیال کے رہنماؤں اور لیڈروں نے گزشتہ پندرہ بیس سال سے مسلسل کوشاں تھے اور اس راست مطالبہ کو لے کر دیگلور و دیگر مقامات پر کئی مرتبہ راستہ روکو، جیل بھرو، جن آندولن بھی کیے گئے تھے اس ریلوے لائن سے دیگلور، ناندیڈ ہی نہیں بلکہ تعلقہ جات نائیگاؤں، نرسی، پڑوسی ریاست تلنگانہ کے تعلقہ جات بانسواڑہ، جوکل، مدنور،بچکنڈہ جیسے بڑے مارکیٹ سے بڑے پیمانے پر تجارت کیلئے ممبئی، بنگلور حیدرآباد اور دیگر علاقوں کی ترقی کیلئے ریلوے لائن مثبت سطح پر دیکھی جا رہی تھی۔ سابق صدر بلدیہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری مسٹر گنگادھر جوشی کی قیادت میں بیدر کے ایم پی مسٹر بھگونت کھوبا کی قیادت میں ایک وفد سابقہ وزیر ریلوے ے مسٹر سریش پربھو سے ملاقات کرکے ناندیڑ تا بیدر براہ دیگلور بین الریاستی ریلوے لائن کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کی اہمیت و افادیت کو سمجھایا تھا۔پارلیمنٹ انتخابات کے بعد اس علاقے کے ایم پی نے وزیر ریلوے مسٹر پیوش گوئل سے بھی اسی مطالبے کو دہرایا تھا، پیوش گوئل نے بھی دلچسپی لیتے ہوئے اس ریلوے لائن کو منظوری دی تھی بلکہ اس ریلوے لائن کا تمام سروے مکمل کیا گیا تھا اور ناندیڑ سے مدکھیڑ جنکشن کے درمیان موگٹ ریلوے اسٹیشن تا نائیگاوں اور نرسی سے دیگلور اور بیدر کرناٹک کیلئے بین الریاستی ریلوے لائن بچھانے کے تمام سروے مکمل کئے گئے تھے حتیٰ کے بجٹ مختص کرتے ہوئے مارچ 2018 میںپینک بُک میں اس ریلوے لائن کی منظوری دے دی گئی تھی۔ اب اراضیات لینڈ ایکویزیشن کر کے ریلوے لائن کا کام شروع ہونا تھا۔ اس میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے اس بات کو مسٹر چکھلی کر( ایم پی) نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا تھا جس کا جواب مرکزی وزیر ریلوے اشوینی وائیشنو نے دیا ہے۔اب جنتا دل سیکولر پارٹی، کانگریس ،راشٹر وادی کانگریس پارٹی اور شیوسینا نے متحدہ طور پر اس عوامی مثبت مسئلے کو جن آندولن کے ذریعے حل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔