ذات پر مبنی مردم شماری کو کوئی روک نہیں سکتا:راہول گاندھی

,

   

ملک کی آبادی کے مطابق پالیسی بنانے کامطالبہ‘ پریاگ راج میں تقریب سے خطاب

پریاگ راج (اتر پردیش ):کانگریس قائد و پارلیمنٹ میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے آج زور دیکر کہا کہ ہندوستان کی آبادی کے مطابق پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے بہت اہم ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے۔پریاگ راج میں منعقد ’سنویدھان سمّان سمیلن‘ ‘ (احترامِ آئین تقریب) سے خطاب کرتے ہوئے راہول نے مزید کہا کہ ’’ریزرویشن پر 50 فیصد حد کو میں نہیں مانتا، اسے ہٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس کی جتنی آبادی ہے اس کے حساب سے پالیسی بنائی جانی چاہیے۔ ہندوستان کی بڑی آبادی ہنرمند اور باصلاحیت ہے لیکن انہیں موقع ہی نہیں ملتا۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے اور اسے کرانے سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا۔راہول گاندھی نے کہا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیاں صرف چنندہ سرمایہ داروں اور 30 فیصد لوگوں کیلئے ہیں۔ بیشتر آبادی کو مرکزی حکومت کے منصوبوں کا فائدہ ہی نہیں مل رہا۔ لیٹرل انٹری ہو جاتی ہے اور میں آپ کو گیارنٹی دے رہا ہوں کہ لیٹرل انٹری میں 90 فیصد والا آپ کو کوئی نہیں ملے گا۔راہول نے مزید کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری صرف مردم شماری نہیں ہے بلکہ یہ پالیسی بنانے کی بنیاد ہے۔ یہ پتہ لگانا بھی ضروری ہے کہ نوکرشاہی، عدلیہ، میڈیا میں او بی سی، دلتوں کی شراکت داری کتنی ہے۔راہول گاندھی نے یہ بھی کہا کہ میں نے ’حسینۂ ہند‘ (مس انڈیا) کی فہرست نکالی۔ مجھے لگا تھا کہ اس میں تو ایک دلت یا قبائلی خاتون کا نام ہوگا لیکن اس فہرست میں بھی نہ تو دلت اور نہ ہی کسی او بی سی کا نام مجھے دکھائی دیا۔ میڈیا، فلم انڈسٹری اور مس انڈیا بننے والوں میں 90 فیصد والوں کی درست تعداد کاپتہ چلنا چاہیے۔ آئین کو 10 فیصد طبقہ والوں نے نہیں بلکہ 100 فیصد والوں نے بنایا ہے۔ ملک کے 500 سب سے بڑے صنعت کاروں کی فہرست میں ایک بھی دلت، قبائلی اور پسماندہ طبقہ کا شخص نظر نہیں آئے گا۔ عدلیہ، کارپوریٹ اور میڈیا سیکٹر میں بھی یہی حال ہے۔مجھے ایک موچی بھائی نے بتایا کہ مودی حکومت نے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے۔ ہمیں وہاں ٹریننگ کے لیے بلایا گیا، لیکن ہم ان کے ہی ٹرینر کو سکھا کر واپس آ گئے۔ کیونکہ ہم تو 40 سال سے موچی کا کام کر رہے ہیں۔ آج ملک میں چاہے وہ بڑھئی، پلمبر، موچی ہو یا کسان، سبھی کے پاس علم ہے، سب کے ہاتھ میں ہنر ہے۔ لیکن سسٹم میں ان سے کوئی بات ہی نہیں کرتا۔