ذخائر آب و آبگیر علاقوں کا تحفظ ‘حکومت کی ٹال مٹول پالیسی

   

Ferty9 Clinic

۔ 2016 میںتشکیل دی گئی کمیٹی نے سفارشات کیوںپیش نہیں کیں۔ ہائی کورٹ کی ناراضگی

حیدرآباد 12 اگسٹ (سیاست نیوز) شہر کے تاریخی ذخائر آب کے آب گیر علاقوں کے تحفظ کیلئے جاری جی او 111 پر حکومت کے رویہ پر ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے آب گیر علاقوں کے تحفظ کیلئے 1996 میں جی او (111) جاری کیا گیا تھا۔ کمیٹیوں کے نام پر وقت برباد کیا جارہا ہے۔ ہائی کورٹ نے حکومت کی ٹال مٹول پالیسی پر برہمی ظاہر کی۔ ہائی کورٹ نے سوال کیاکہ نیشنل گرین ٹریبونل کی سفارش پر 2016 میں قائم کمیٹی نے تاحال کیوں رپورٹ پیش نہیں کی۔ کمیٹی رپورٹ کیلئے مزید کتنا انتظار کیا جائیگا ۔ ہائی کورٹ نے کمیٹی کو برخاست کرنے کی دھمکی دی ۔ ہائی کورٹ نے کمیٹی کی کارکردگی، سفارشات و مکمل ریکارڈ کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کارروائی کو 16 اگست تک ملتوی کردیا ہے۔ وٹی ناگولہ پلی میں چند خانگی اراضیات کو جی او 111 کے حدود سے نکالنے جی او پر سختی سے عمل کیلئے ایک درخواست داخل کی گئی تھی جس پر11 اگسٹ کو ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ہما کوہلی جسٹس بی وجے سین ریڈی پر مشتمل بنچ نے سنوائی ہوئی۔ عدالت نے کمیٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہاکہ آخر مزید اور کتنا وقت درکار ہوگا۔ ہائی کورٹ نے 45 دن میں رپورٹ پیش کرنے کا کمیٹی کو حکم دیا اور سوال کیاکہ ساڑھے چار سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود رپورٹ کیوں پیش نہیں کی گئی ۔ ایک شہری کی جانب سے تعمیر پر این جی ٹی میں درخواست داخل کی گئی جس کے بعد حکومت نے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ۔ عدالت نے کہا کہ یہ تمام مسائل حکومت کے پیدا کئے گئے ہیں اور اس کی یکسوئی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ 2016 میں قائم کمیٹی میں اراکین کی تبدیلی کتنی بار عمل میں لائی گئی۔ ہائی کورٹ نے بالخصوص سرکاری وکیل سنجیو کمار سے سوال کیا۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا کمیٹی میں ماہرین نہیں ہیں یا کمیٹی آئی اے ایس عہدیداروں کی ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی کا اجلاس 28 مرتبہ منعقد ہوا اور ماہرین سے مشاورت کے بعد فیصلہ لیا جائیگا۔ تاہم عدالت نے اجلاس کی سفارشات پیش کرنے کیا۔ کمیٹی کو 45 دن میں رپورٹ پیش کرنی تھی تاہم ساڑھے چار سال سے صرف ٹال مٹول جاری ہے۔ ہائی کورٹ نے رویہ پر کمیٹی برخواست کرنے کی دھمکی دی اور سرکاری وکیل کی جانب سے مدت کی درخواست پر 16 تاریخ تک مہلت دی۔