سپریم کورٹ کا فیصلہ ، درخو است گزار کو رجسٹرار سے رجوع ہونے کی ہدایت
نئی دہلی ۔ 13 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے ’’کشمیر ٹائمز‘‘ کی مدیرہ انورادھا بھاسن سے سہ شنبہ کو کہا کہ وہ اس کے رجسٹرار کے حو الے اپنی عاجلانہ سنوائی کی درخواست کردیں جس میں انہوں نے دفعہ 370 کی برخواستگی کے بعد جموں و کشمیر کے ذرائع ابلاغ پر نافذ تحدیدات کو فوری ختم کرنے کی استدعا کی تھی ۔ جسٹس ارون مشرا کی سرکردگی میں قائم ایک بنچ نے بھاسن کے وکیل ویریندا گروور سے کہا کہ ’’آپ اپنی درخواست رجسٹرار کے حوالے کردیں، وہ اس کا جائزہ لیں گے ‘‘ ۔ گروور نے عدالت عظمی ٰ کو بتایا کہ بھاسن کشمیر کے سرکردہ اخبار کی مدیرہ ہیں اور وادی کو مکمل طور پر مقفل کردیا گیا ہے جس کے باعث صحافی اپنی خدمات انجام دینے سے معذور ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ’’ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے ‘‘۔ بھاسن نے اپنی درخواست میں وادی میں ہر قسم کے ذرائع ابلاغ کی بحالی کے لئے ہدایت جاری کرنے کی عدالت عظمیٰ سے التجا کی ہے ۔ ان کی درخواست میں موبائیل انٹرنیٹ کے علاوہ فون کی زمینی خدمات بھی شامل ہیں ۔ تحدیدات کی برخواستگی سے درخواست گزار کا یہ ادعا ہے کہ ذرائع ابلاغ کوا پنے فرض کو ادا کرنے کے قابل ماحول پیدا ہوگا ۔ درخواست میں مدیرہ نے یہ بھی کہا ہے کہ عدالت فاضلہ جموں و کشمیر انتظامیہ کو ہدایت دے کہ وہ فوری صحافیوں کی اور ذرائع ابلاغ کے افراد کی نقل و حرکت پر عائد تمام پابندیوں کو برخواست کرے ۔ انہوں نے کہا کہ 4 اگست سے جموں و کشمیر کے تمام رابطوں کو مسدود کردیا گیا ہے جس سے کشمیر اور جموں کے بعص اضلاع ہر قسم کی اطلاعات اور خبروں سے کٹ کئے ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جن احکامات کے تحت یہ تحدیدات عائد کی گئیں، ان احکامات کی رسمی طور پر ذرائع ابلاغ کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی ۔ درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ مرکز ، ریاستی انتظآمیہ اور ارباب مجاز نے جن احکامات کے تحت یہ زیادتی پر مبنی اور اندھا دھند کارروائیاں کی ہیں۔ وہ درخواست گزار کے لئے بالکل انجانی ہیںاور درخواست گزار اس سے نا آشنا ہے۔