ذہنی تناؤ کا علاج ممکن، خودکشی حل نہیں

   


اللہ سے نا امید نہ ہونے کی تلقین، گورنمنٹ ہاسپٹل ونپرتی کی ماہر نفسیات ڈاکٹر سمیرا یاسمین کا اظہار خیال

ونپرتی ۔ 11 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ہر سال ستمبر کی 10 تاریخ کو ورلڈ سو سائیڈ پر یونشن ڈے منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ماہر نفسیات ڈاکڑ سمیرا یاسمین، ایس آر ونپرتی، تلنگانہ نے اپنی خصوصی ملاقات کے دراون نامہ نگار سیاست ونپرتی محمد یعقوب سے خودکشی اور ذہنی، دماغی تناؤ پر روشنی ڈالتے ہوے اظہار خیال کیا، شعبہ ماہر نفسیات میں یم ڈی کی تعلیم مکمل کرنے والی ہونہار طالبہ ڈاکٹر سْمیرا یاسمین دختر جناب محمد منیر الدین طاہر ہیڈ پوسٹ ماسٹر (سدی پیٹ) وظیفہ یاب فی الحال ونپرتی گورنمنٹ ھاسپٹل میں ایس آر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اْنھوں نے کہا کہ انسان جب مشکلات سے دوچار ہوتا ہے اور وہ تمام تر کوششوں کے باوجود اس کو حل نہیں کر پاتا تب وہ ذہنی الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی پریشانی میں مبتلا ہونے کے باوجود کسی کو بتا نہیں پاتا۔ تب وہ اکیلے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔اکیلے پن میں اْسکو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کرے تو کیا کرے۔ ہر نظریہ سے سوچ سوچ کروہ (دماغی) ذہنی تناو کا شکار ہو جاتا ہے۔بر وقت علاج نہ کروانے پے اس کا یہ مرض بڑھتا جاتا ہے اور وہ کئی اْلٹے سیدھے حرکات کرنے لگتا ہے۔ کبھی تو نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ اْسکو موت ہی آسان حل سمجھ میں ٓتا ہے۔ کئی بار تو (دماغی ) ذہنی تناؤ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ خود کشی کر بیٹھتا ہے۔ لوگ ہر بیماری کا علاج کرواتے ہیں۔ لیکن اگر ذہنی بیماری ہو جائے تو ڈاکٹر کے پاس جانے سے کتراتے ہیں پھر ڈرتے ہیں یہ سونچ کرکہ اگر ہم دماغی ڈاکٹر کے پاس جائیں تو لوگ کیا سوچیں گے لوگ ہم کو پاگل کہیں گے۔ یہ سوچ کر ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجاے خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہی سوچ بہت بڑی غلطی ہے۔اور یہ سوچ ہی بالکل غلط ہے ذہنی طور پر جو بیمار ہوتا ہے وہ کوئی پاگل نہیں ہوتا۔ عام بیماریوں کا جس طرح علاج ہوتا ہے اْسی طرح (دماغی) ذہنی بیماری کا بھی علاج ہوتا ہے۔ سورہ ا لنساء آیت نمبر 29 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ’’ اپنے آپ کو ہلا ک مت کرو‘ بیشک اللہ تم پر مہربان ہے‘‘۔ سورہ طلاق آیت نمبر 3 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں جس نے اللہ پر بھروسہ کیا اْسکے لئے اللہ کافی ہے۔ سورۃ الشرح آیت نمبر 6 میں ’’ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اسی لیے کوئی بھی بیماری ہوتو نہ اْمید نہ ہوں دعا کرتے ہوئے علاج کروائیں۔ انشااللہ رحمن کے رحم و کرم سے جلد شفا یاب ہو جائیں گے۔