دہلی: اتوار کی صبح راجدھانی دہلی موسلادھار بارش ہوئی، گرج چمک کے ساتھ لوگوں نے صبح کی، کئی مکانات سوئمنگ پول میں تبدیل ہوگئے۔
فیض نامی شخص نے اپنی 85 سالہ دادی کے ساتھ مل کر اگلے چند گھنٹوں میں اپنے گھر کے اندر بھرے ہوئے گندا پانی کو باہر پھینک دیا۔
تاہم لوگوں ان کی کاوشیں بیکار ہوگئیں جب گٹر کا پانی بہہ گیا اور پھر وہ صرف اتنا کرسکتے تھے کہ ایک بلند بستر پر بیٹھ گئے، انکے گھر میں ہر چیز تیرتی ہوئی نظر آرہی تھی۔
اتوار کی صبح دارالحکومت میں موسلا دھار بارش کے بعد اس علاقے میں شدید آلودگی دیکھنے میں آئی۔
انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں پانی کا جمع ہونا نئی بات نہیں ہے، ایم ایل اے کے ساتھ ساتھ کونسلر کو بھی کئی بار صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے لیکن ہماری ساری شکایات بہرے کانوں پر پڑتی ہیں۔
اب کیا ہوگا اگر میری دادی تمام گندگی اور کیچڑ سے بیمار ہو جائیں تو اسپتال بھی وبائی امراض کے درمیان مریضوں کا علاج نہیں کر رہے ہیں۔ کئی دیگر رہائشیوں نے بھی اسی پریشانی کا مشاہدہ کیا اور کہا کہ گھروں میں پانی بھر جانے کے سبب ان کے بہت سے الیکٹرانک اور دیگر سامان کو نقصان پہنچا ہے۔
اس علاقے میں گروسری اسٹور کے مالک شاہد کو بھی تھوڑی اونچی جگہ پر دکان ہونے کے باوجود شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا ، “میرے اسٹور میں بلندی کے باوجود گندا پانی تھا۔ کیا یہ دہلی ہے؟ ہم حیران ہیں کہ بارش نے ہماری زندگیوں کو کس طرح تھمادیا۔
علاقہ مکینوں نے پانی کو نکالنے کے لئے دبے ہوئے گٹر کو صاف کرنے کی کوشش کی۔
قومی دارالحکومت کے تقریبا تمام علاقوں سے آبی گزرگاہ کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
اتوار کی بارش کے بعد پانی کے بہاو کی وجہ سے آئی ٹی او کے قریب واقع علاقے انا نگر میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ متعدد مکانات بہہ گئے ہیں۔
