راجستھان میں مسلم آٹو ڈرائیور کو ’جئے شری رام‘ نہ کہنے پر زدوکوب

,

   

مودی زندآباد کہنے پر مجبور کیا گیا، داڑھی نوچی گئی، دو افراد گرفتار
سیکر: راجستھان کے سیکر میں پیش آئے ایک واقعہ میں دو فرقہ پرستوں نے ایک باریش مسلم آٹو ڈرائیور کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اسے جئے شری رام نہ کہنے پر مارپیٹ کی گئی، اس کے دانت توڑے گئے اور پاکستان چلے جانے کو کہا گیا۔ متاثرہ شخص غفار احمد نے پولیس میں درج اپنی شکایت میں یہ بات بتائی۔ یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا تاہم تاخیر سے منظر عام پر آیا۔ غفار احمد نے بتایا کہ حملہ آوروں نے جئے شری رام اور مودی زندآباد کہنے پر مجبور کیا۔ ایسا کرنے سے انکار پر انہیں مارپیٹ کی گئی، داڑھی نوچی گئی اور ان کے دانت توڑدیئے گئے۔ انہیں پاکستان چلے جانے کو کہا گیا۔ 52 سالہ غفار احمد کی ایک آنکھ حملے میں زخمی ہوگئی۔ غفار احمد نے الزام عائد کیا کہ حملہ آوروں نے ان کی کمائی بھی چھین لی۔ پولیس نے اس سلسلہ میں شمبھو دیال اور راجندر جاٹ نامی دو افراد کو گرفتار کرلیا۔ ان دونوں کے خلاف پہلے سے اس طرح کے اور بھی مقدمات درج ہیں۔ پولیس نے دونوں ملزمین کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ دونوں بھی ڈرائیور بتائے گئے ہیں اور ان کا سابق میں بھی اسی طرح کا مجرمانہ ریکارڈ رہا ہے۔