حضور آباد کے جہد کار کی ٹی آر ایس میں شمولیت، وزیر فینانس ہریش راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔/15 اگسٹ، ( سیاست نیوز) وزیر فینانس ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ بائیں بازو نظریات کا دعویٰ کرنے والے ایٹالہ راجندر بی جے پی میں شمولیت کے بعد زعفرانی زبان میں بات کررہے ہیں۔ حضورآباد کی ترقی میں ناکام رہے راجندر اپنے اثاثہ جات اور جائیدادوں کے تحفظ کیلئے بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ چیف منسٹر اور دیگر قائدین کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔ حضورآباد میں ہریش راؤ اور وزیر سیول سپلائیز جی کملاکر، رکن پارلیمنٹ کیپٹن لکشمی کانت راؤ، رکن اسمبلی ستیش کمار، سابق وزیر ای پیدی ریڈی، کوشک ریڈی، ایس سی کارپوریشن کے صدرنشین بی سرینواس کی موجودگی میں عوامی جہد کار پی پوچاملو یادو نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ ایٹالہ راجندر کی جانب سے پیدا کردہ مسائل سے عاجز آکر یادو نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ پولیس کے ذریعہ ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ راجندر کی بی جے پی میں شمولیت کے بعد جہد کار نے ٹی آر ایس کو حضورآباد کے عوام کیلئے بہتر تصور کیا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ راجندر کی باتوں اور عمل میں کافی تضاد ہے۔ بی جے پی جیسی فرقہ پرست جماعت میں شرکت کرتے ہوئے وہ اپنے بائیں بازو نظریات کو فراموش کرچکے ہیں۔ ان کی زبان پر بائیں بازو نظریات کی جگہ زعفرانی بولی آچکی ہے۔ راجندر نے گزشتہ سات برسوں میں حضورآباد کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ راجندر کی کامیابی سے علاقہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا برخلاف اس کے ٹی آر ایس امیدوار جی سرینواس یادو کی کامیابی علاقہ میں ترقی اور فلاح و بہبود کے کاموں کے آغاز کا سبب بن سکتی ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے حضورآباد کی ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ٹی آر ایس امیدوار تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرچکے ہیں ۔ وہ کئی ماہ تک جیل میں رہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حضورآباد ٹی آر ایس کا گڑھ ہے اور کوئی بھی الیکشن کا نتیجہ ٹی آر ایس کے علاوہ کسی اور کے حق میں نہیں ہوسکتا۔