سماج کو تقسیم کرنے اور منافرت پیدا کرنے کی کوششوں پر سخت کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد۔/24 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے ملعون راجہ سنگھ کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ راجہ سنگھ نے اخلاق کی تمام حدود کو پار کرلیا ہے اور سماج سے مقاطعہ کرنا ضروری ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ پُرامن تلنگانہ کو فرقہ وارانہ تشدد میں جھونکنے کی سازش کے تحت بی جے پی قیادت سرگرم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین ملک کے اتحاد و یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے درپر ہیں۔ بی جے پی کے معطل رکن اسمبلی کے بیان سے سماج کا سرشرم سے جھک گیا۔ راجہ سنگھ ایک مہذب شخص اور رکن اسمبلی کی حیثیت سے اپنے وقار کے برخلاف گھٹیا بیان بازی پر اُتر آئے ہیں۔ بیان بازی کا مقصد سماج کو مذہب کی بنیاد پر توڑنا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ راجہ سنگھ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ہر شخص کو اپنے مذہب کے احترام کا حق حاصل ہے اور دوسرے کو تنقید کا اختیار نہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ سماج کو فرقہ وارانہ منافرت سے بچانے اور امن و امان کی برقراری کیلئے ضروری ہے کہ راجہ سنگھ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے حکومت پر نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کو امن و امان کی برقراری اور سیکولرازم پر اپنے عہد کا ثبوت دینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر اور طاقتوں کو سماج میں نفرت پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیئے۔ر