مسلم نوجوانوں کی جدوجہد قابل ستائش ۔ صبر و تحمل برقرار رکھنے فاروق حسین کی اپیل
حیدرآباد25۔اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے رکن اسمبلی کی پی ڈی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے ذریعہ اپنے سیکولر کردار کو ثابت کردیا ہے۔ جناب محمد فاروق حسین ایم ایل سی نے حکومت اور پولیس کی کاروائی کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے علاوہ اضلاع میں احتجاج میں شامل نوجوانوں نے کامیاب کوشش کرکے حکومت کو گستاخ رسولؐ کے خلاف کاروائی کیلئے راضی کروایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجہ سنگھ کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے اور اسے اسمبلی سے خارج کرنے کا مطالبہ اگر اسپیکر قبول کرتے ہیں تو ملک بھر کیلئے یہ ایک مثالی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کے لئے کیا جانے والا فیصلہ ہوگا۔ راجہ سنگھ کے خلاف مقدمات اور انہیں دائیں بازو جماعتوں کی حمایت کی پرواہ نہیں کی اور اس کے بعد کے ردعمل کے متعلق غور نہیں کیا جس کے نتیجہ میں یہ کاروائی کی جاسکی۔ انہو ں نے بتایا کہ حکومت سے رکن اسمبلی کے خلاف پی ڈی ایکٹ کا استعمال کرکے ایک مثال قائم کی گئی ہے جناب محمد فاروق حسین نے کہا کہ حکومت اور ٹی آر ایس قائدین نے رکن اسمبلی گوشہ محل کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے بیانات سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا لیکن اس شخص کی بد دماغی اور بے ہودہ گفتگو نے اس کو مشکلات میں مبتلاء کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن جب اپنے آقاحبیب مجتبیٰ احمد مصطفی کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا ۔ انہو ںنے بتایا کہ حیدرآباد و تلنگانہ کے مسلمانوں نے راجہ سنگھ کی ہر شرانگیزی کو برداشت کیا لیکن جب اس بے ہودہ شخص نے شان رسالت ؐ میں گستاخی کی تو اس کے خلاف جدوجہد کرکے گرفتاری تک احتجاج جاری رکھا ۔م