راجہ صاحب کی ناکامی سے ندھی کو سب سے بڑا نقصان

   

حیدرآباد، 13 جنوری (ایجنسیز) معروف اداکارہ ندھی اگروال اس وقت اپنے فلمی کیریئر کے مشکل دور سے گزر رہی ہیں، کیونکہ ان کی طویل عرصے سے متوقع واپسی والی فلم دی راجہ صاحب وہ کامیابی حاصل نہ کر سکی جس کی انہیں امید تھی۔ پاون کلیان کی فلم ہری ہرا ویرا ملو کی مایوس کن کارکردگی کے بعد شائقین اور فلمی حلقوں کی نظریں پربھاس کے مقابل ان کے کردار پر مرکوز تھیں، تاہم ایک بار پھر قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ ندھی اگروال نے تیلگو سنیما میں ساویا ساچی اور مسٹر مجنو جیسی امید افزا فلموں کے ذریعے قدم رکھا تھا، جبکہ آئی اسمارٹ شنکر میں ان کی زبردست کامیابی نے یہ تاثر دیا تھا کہ وہ اسٹار ہیروئن بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔ تاہم غیر مستقل فلمی پیشکش اور پروجیکٹس میں تاخیر نے ان کے کیریئر کی رفتار کو سست کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ندھی نے تقریباً چار برس تک انتظارکیا، اس دوران انہوں نے دیگر فلموں کی پیشکشیں مسترد کرتے ہوئے اپنی تمام تر امیدیں ہری ہرا ویرا ملو اور بعد ازاں دی راجہ صاحب پرلگا دیں۔ اگرچہ ’’دی راجہ صاحب‘‘ میں انہیں باقاعدہ ہیروئن کا کردار ملا لیکن بدقسمتی سے کردار میں جان نہ ہونے اور فلم کو ملے جلے ردعمل کے باعث وہ ناظرین پرگہرا اثر چھوڑنے میں ناکام رہیں۔ فلم میں محدود اسکرین اسپیس اورکہانی میں کردار کی کم گنجائش نے ندھی اگروال کو وہ پہچان نہ دلائی جس کی انہیں شدید ضرورت تھی۔ برسوں کے انتظار کے بعد جس شاندار واپسی کا خواب انہوں نے دیکھا تھا، وہ پورا نہ ہو سکا۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ندھی اگروال کے کیریئر کا اگلا موڑکیا ہوگا؟ ان کی جدوجہد اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ فلمی دنیا کتنی غیر یقینی ہو سکتی ہے، چاہے فنکار کتنا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو۔ شائقین اور فلمی تجزیہ کار اب ان کے اگلے فیصلے اور ممکنہ مضبوط واپسی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔