سید جلیل ازہر
وائیناڈ لوک سبھا نشست سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد پرینکا گاندھی جاریہ لوک سبھا سیشن میں جمعہ کے دن اپنے پہلے خطاب میں حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے تمام اراکین کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ ان کے طرز تخاطب اور انداز بیان کو دیکھ کر سینئر پارلیمنٹیرین بھی حیرت میں پڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن میں ہم سنتے آئے ہیں آپ نے بھی سنا ہوگا کہ ایک کہانی میں کہ راجہ بھیس بدل کر بازار میں عوام کے مسائل سننے کیلئے ان کے درمیان جاتا تھا، افسوس کہ آج کے راجہ بھیس تو بدل لئے ہیں ‘ شوق تو ہے ان کو بھیس بدل لینے کا لیکن عوام کے بیچ جانے کی ہمت ہے نہ ہی مسائل کو سننے کی‘ جبکہ راجہ کا یہ احساس تھا کہ وہ یہ سننے کیلئے جاتا تھا کہ عوام میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں کیا میں صحیح راستہ پر چل رہا ہوں کہ نہیں ؟
پرینکا گاندھی نے سخت الفاظ میں کہا کہ لوک سبھا کے نتائج ایسے نہیں آئے کہ یہ آئین کو بدل لینے کی تیاری کرتے ، ہارتے ہارتے جیتنے سے یہ احساس ہوا کہ اب آئین نہیں بدلا جاسکتا، یہ بات سمجھ میں آگئی کہ لوگوں کو اتنا بھی مت ڈراؤ کہ لوگوں کے دلوں سے ڈر نکل جائے۔ وزیر اعظم آئین کی نقل کو ماتھے سے لگاتے ہیں لیکن جب سنبھل، منی پور، ہاتھرس میں انصاف کی آواز اُٹھتی ہے تو ان کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی۔ پرینکا گاندھی نے کسانوں کے مسائل پر بھی حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ زرعی قوانین بھی صنعت کاروں کے لئے بنائے جارہے ہیں۔ آج ملک کا کسان صرف بھگوان کے بھروسے ہے۔ جتنے بھی قوانین بنتے ہیں وہ بڑے بڑے صنعت کاروں کے لئے بنائے جارہے ہیں۔ انہوں نے انتخابات میں شفافیت لانے پر زور دیتے ہوئے ووٹروں کو بیالٹ پیپر کے ذریعہ ووٹ کا اختیار دینے کو کہا تاکہ پتہ چل سکے کہ ان کا ووٹ کس کو گیا۔ اس تقریر کو تو لوگوں نے بڑی دلچسپی سے ٹی وی پر سنا تاہم ’’ راجہ کی کہانی ‘‘ کا ویڈیو سوشیل میڈیا پر کافی وائرل ہوا۔ پرینکا گاندھی نے اپنے پہلے خطاب میں ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا ۔ ہرگوشہ سے ان کے انداز بیان پر ستائش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔