راجیو دھون کے کمرہ عدالت میں کاغذات کو پھاڑنے کی میڈیا نے غلط ترجمانی کی

   

جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے نامور وکیل کو ای میل پر جواب
حیدرآباد۔18 اکٹوبر(سیاست نیوز) راجیو دھون نے عدالت میں کاغذات کیوں پھاڑے !جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے سینیئر ایڈوکیٹ راجیو دھون کو ای۔ میل روانہ کرتے ہوئے استفسار کیا اور کہا کہ وہ اس لئے یہ ای۔میل روانہ کرتے ہوئے استفسار کر رہے ہیں کیونکہ راجیو دھون کی جانب سے عدالت میں کاغذات پھاڑنے کے واقعہ کو منفی انداز میں پیش کیا جا رہاہے۔جسٹس مارکنڈے کاٹجو کی جانب سے روانہ کئے گئے ای ۔میل کے جواب میں مسٹر راجیو دھون نے کہا کہ وکاس سنگھ سماعت کے آخری دن یعنی 40ویں دن نئے شواہد عدالت میں پیش کرنا چاہ رہے تھے جس پر انہوں نے اعتراض کیا اور عدالت نے کہا کہ وہ اس اعتراض کو قبول کرتے ہوئے مقدمہ سے ان دستاویزات کو حذف کررہی ہے ۔انہوں نے ای ۔میل میں کہا کہ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ عدالت نے ان شواہد کو قبول نہیں کیا ہے اور اگر وہ چاہتے ہیں تو ان دستاویزات کوپھاڑ سکتے ہیں جس پر راجیو دھون نے وہ نقشہ اور دستاویزات عدالت میں چاک کردیئے ۔عدالت میں دستاویزات کو پھاڑنے کے واقعہ پر ذرائع ابلاغ میں جس طرح کی خبریں گشت ہورہی تھیں تو اس وقت راجیودھون نے چیف جسٹس آف انڈیا سے دوسرے مرحلہ میں استفسار کیا کہ آیا انہوں نے دستاویزات چاک کرکے کوئی غلطی کی ہے یا چیف جسٹس آف انڈیا کی اجازت سے ایسا کیا گیا ہے تو چیف جسٹس آف انڈیا نے یہ واضح کردیا کہ ان کی اجازت سے ایسا کیا گیا ہے۔راجیو ددھون کو روانہ کردہ ای میل میں جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے ان سے اپنی رفاقت کے سلسلہ میں تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ وہ اور مسٹر دھون الہ آباد اسکول میں ہم جماعت رہے ہیںاور بعد ازاں یونیورسٹی آف الہ آباد میں بھی دونوں ہم جماعت رہے ہیں ۔جسٹس مارکنڈے کاٹجو جو کہ فی الحال امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مقیم ہیں نے راجیو دھون کے ای ۔میل کو عوام کے درمیان پیش کرتے ہوئے یہ تفصیلات بیان کی اور ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے اس واقعہ کی رپورٹ کے طریقہ کار پر شدید افسوس کا اظہار کیا ۔