راجیہ سبھا کا موکل رائے ، جناردن اور ایچ کے دوآ کو خراج

   

نئی دہلی 9 مارچ (یو این آئی) راجیہ سبھا نے اپنے سابق ارکان موکل رائے ، ڈاکٹر جناردن واگھمارے اور ایچ کے دوآ کو پیر کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے احترام میں خاموشی بھی اختیار کی۔ چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ضروری قانون سازی کی دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے جانے کے بعد ایوان کو سابق ارکان مسٹر موکل رائے ، ڈاکٹر جناردن واگھمارے اور ایچ کے دوآ کے انتقال کی اطلاع دی۔انہوں نے کہا کہ رائے کا گزشتہ 23 فروری کو 71 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ موصوف نے ریاست مغربی بنگال کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں دو مدتوں تک، سال 2006 سے 2012 اور 2012 سے 2017 تک خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے ضلع شمالی 24 پرگنہ کے کانچراپاڑہ میں پیدا ہوئے مسٹر رائے نے کم عمری میں ہی عوامی زندگی میں قدم رکھا اور اپنی ریاست اور قومی سطح پر ایک ممتاز سیاسی شخصیت کے طور پر ابھرے۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ رائے نے سال 2012 میں وزیر ریلوے کے طور پر اور اس سے قبل 2009 سے 2012 تک جہاز رانی اور ریلوے کی وزارتوں میں وزیر مملکت کے طور پر کام کیا۔
اس ایوان میں اپنی دوسری مدت کے دوران انہوں نے ٹرانسپورٹ، سیاحت اور ثقافت سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
چیئرمین نے کہا کہ مسٹر رائے سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں میں گہری دلچسپی رکھتے تھے اور ناخواندگی کے خاتمے کے پروگراموں سمیت کئی کمیونٹی ڈیولپمنٹ اقدامات سے وابستہ رہے ۔ ان کے انتقال سے ملک نے ایک تجربہ کار پارلیمنٹیرین اور وقف عوامی شخصیت کو کھو دیا ہے ۔
مسٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ ڈاکٹر واگھمارے کا گزشتہ 2 مارچ کو 91 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے اپریل 2008 سے اپریل 2014 تک مہاراشٹر ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔
چیئرمین نے کہا کہ مہاراشٹر کے ضلع لاتور کے گاؤں کوٹھا میں پیدا ہوئے ڈاکٹر واگھمارے ایک ممتاز ماہرِ تعلیم، سماجی مصلح اور نامور پارلیمنٹیرین تھے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سی کتابوں مصنف کے طور پر ڈاکٹر واگھمارے نے تعلیم، ادب، سماجی اصلاحات اور فلسفے کے شعبوں میں مراٹھی، ہندی اور انگریزی میں متعدد کتابیں تحریر کیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ‘مہاراشٹر بھوشن ایوارڈ’ سمیت مہاراشٹر حکومت کی جانب سے کئی معتبر اعزازات سے نوازا گیا۔