بی آر ایس کا مقابلہ پر غور، پارٹی کے منحرف ارکان کا امتحان لینے کی منصوبہ بندی، دونوں نشستوں پر کانگریس کا موقف مستحکم
حیدرآباد۔ 22 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں راجیہ سبھا کی دو نشستوں کے لئے 16 مارچ کو رائے دہی مقرر ہے۔ بی آر ایس کے رکن ٹی آر سریش ریڈی اور کانگریس کے ابھیشیک منوسنگھوی کی میعاد 9 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک کی دیگر ریاستوں کی مخلوعہ راجیہ سبھا نشستوں کے لئے ساتھ تلنگانہ کی 2 نشستوں کے چناؤ کے لئے 26 فروری کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا اور 5 مارچ تک پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی سہولت رہے گی۔ راجیہ سبھا کی دونوں نشستوں پر کانگریس پارٹی کو اپنے امیدواروں کی کامیابی کا یقین ہے کیونکہ اسمبلی میں عددی طاقت کے اعتبار سے برسر اقتدار پارٹی کا موقف مستحکم ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بی آر ایس نے کانگریس میں انحراف کرنے والے 10 ارکان اسمبلی کو جھلک دینے کے لئے انتخابات میں حصہ لینے کی حکمت عملی کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بی آر ایس سربراہ کے سی آر سے پارٹی قائدین نے اس بارے میں مشاورت کی اور تجویز پیش کی کہ ایک نشست کے لئے امیدوار کو میدان میں اتارا جائے تاکہ 10 منحرف ارکان کے لئے الجھن پیدا کی جاسکے۔ راجیہ سبھا کے الیکشن میں اگر بی آر ایس اپنے تمام ارکان کو وہپ جاری کردے تو منحرف ارکان کے لئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس پارٹی کے ساتھ ساتھ منحرف ارکان کو سیاسی طور پر پریشان کرنے کے لئے بی آر ایس نے ایک نشست پر مقابلہ کی تیاری شروع کردی ہے۔ نوٹیفکیشن کی اجرائی کے بعد اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے بی آر ایس کے 10 ارکان اسمبلی کے خلاف اسپیکر اسمبلی سے شکایت کی گئی تھی اور اسپیکر پرساد کمار نے ابھی تک 8 منحرف ارکان کو کلین چٹ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ارکان بی آر ایس کے رکن برقرار ہیں۔ ڈی ناگیندر اور کڈیم سری ہری کے بارے میں اسپیکر کا فیصلہ باقی ہے۔ اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق بی آر ایس ارکان کی تعداد 37 ہے اور منحرف ارکان کو علیحدہ کردیا جائے تو بی آر ایس کی تعداد گھٹ کر 27 رہ جائے گی۔ 119 رکنی تلنگانہ اسمبلی میں راجیہ سبھا کی ایک نشست کے لئے 40.66 ارکان کی تائید ضروری ہے۔ راجیہ سبھا کے ایک رکن کو منتخب کرنے کے لئے تقریباً 41 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہونی چاہئے۔ دو نشستوں پر کامیابی کے لئے کانگریس کو 82 ارکان کی ضرورت پڑے گی۔ اگر بی جے پی کے 8 ارکان اسمبلی رائے دہی سے دوری اختیار کریں تو ایک نشست کے لئے 38 ارکان کی تائید لازمی رہے گی اور کانگریس پارٹی کو دونوں نشستوں پر کامیابی کے لئے 76 ارکان کی ضرورت ہوگی۔ کانگریس کے موجودہ ارکان کی تعداد 66 ہے۔ مجلس کے 7 اور سی پی آئی کے ایک رکن کو ملا کر کانگریس کے پاس 76 ارکان کی تائید حاصل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے اور دوسرے ترجیحی ووٹ کی بنیاد پر کانگریس پارٹی کامیابی حاصل کرسکتی ہے اور اسے بی آر ایس کے منحرف ارکان کی تائید کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بی آر ایس کی جانب سے اگر ایک امیدوار کھڑا کیا جاتا ہے تو 10 منحرف ارکان کے لئے کانگریس کی تائید کرنا آسان نہیں رہے گا۔ راجیہ سبھا کی ووٹنگ کے معاملہ میں جو قواعد موجود ہیں اس کے تحت کوئی بھی رکن اسمبلی اپنی پارٹی کے وہپ کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ پولنگ اسٹیشن میں موجود اپنی پارٹی کے الیکشن ایجنٹ کو یہ بتانا لازمی رہے گا کہ وہ کس امیدوار کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کررہے ہیں۔ اس طرح ہر رکن اسمبلی کے ووٹ کے بارے میں متعلقہ پارٹی کو تفصیلات حاصل رہیں گی۔ اگر پارٹی کے الیکشن ایجنٹ کو ایک امیدوار کا نام بتایا جائے اور دوسرے کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں یہ ممکن نہیں ہے۔ پارٹی کے الیکشن ایجنٹ کو اطلاع دینے پر ہی ووٹ جائز تصور رہے گا۔ گجرات میں حال ہی میں الیکشن کمیشن نے بعض ایسے ووٹ گنتی میں شامل نہیں کئے جن کی پارٹی کے الیکشن ایجنٹ کو اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ منحرف ارکان کا امتحان لینے کے لئے بی آر ایس راجیہ سبھا الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑا کرسکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں قطعی فیصلہ کے سی آر کریں گے۔ بی آر ایس کی جانب سے امکانی مقابلے کی اطلاعات نے منحرف ارکان کے دلوں کی دھڑکن کو تیز کردیا ہے۔ 1