رازدارانہ معلومات کے افشاء سے ہندوستان کو کارگل جنگ میں ناکامی

   

ہندوستان کا دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک کی لرزہ دینے والی دشمنی

نئی دہلی 29 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کارگل جنگ کس نے جیتی ہندوستان یا پاکستان اس بارے میں دونوں ملک کافی دعوے کرتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ابتداء میں ہندوستان کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا لیکن بعد میں ہندوستانی فضائیہ کے حرکت میں آنے کے بعد پانسہ پلٹ گیا اور پاکستان کو یہ جنگ ختم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تاہم حالیہ عرصہ کے دوران جو کتابیں منظر عام پر آئی ہیں ان میں خود پاکستان کے مصنفین کا کہنا ہے کہ کارگل جنگ میں پاکستان کو اپنے بے شمار فوجیوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ہندوستانی مصنفین نے اپنی کتابوں میں ہندوستان کو فاتح اور پاکستان کو ناکام قرار دیا۔ اب کارگل کی جنگ کون جیتا کون ہارا کے بارے میں ایک مغربی ملک کی ایجنسی کے بارے میں انکشافات منظر عام پر آئے ہیں وہ لرزہ دینے والے ہیں۔ مغربی ملک کی ایک خفیہ ایجنسی نے رازدارانہ معلومات کا افشاء کیا تھا جس کے نتیجہ میں ہندوستان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سلسلہ میں بی بی سی کی ایک رپورٹ بھی کافی اہمیت رکھتی ہے جس میں این ڈی ٹی وی کے حوالے سے بتایا گیا کہ کارگل جنگ میں ہندوستانی فوج کی قیادت کرنے والوں میں شامل لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) کشن پال کا کہنا تھا کہ ہم نے کارگل دوبارہ حاصل کرلیا اور ہمیں حکمت عملی کے لحاظ سے کچھ کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں لیکن ہم نے 587 قیمتی جانیں بھی کھوئیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کامیابیوں کے بعد اپنی پوزیشن کو مضبوط نہیں کیا۔ جنرل کشن پال کے مطابق اپنے دل میں اُنھوں نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیاکہ ہم واقعی وہ جنگ جیتے تھے۔ بہرحال حال ہی میں ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح ہندوستانی بحریہ کے کوڈس یا خفیہ اشاروں کو ہیک کیا گیا تھا۔ پاکستان کے ساتھ لڑی گئی اس جنگ میں انڈین نیول کے انتہائی رازدارانہ خفیہ کوڈس یا اشاروں کی ہیکنگ کے باعث ہی ہندوستانی فوج کا آپریشن ناکام ہوا اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ خفیہ اشارہ پاکستان یا چین میں بیٹھے ہیکروں نے ہیک نہیں کئے تھے بلکہ ہندوستان میں بیٹھے ہوئے ہیکرس نے یہ کام انجام دیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ہیکنگ کا یہ خفیہ جاسوسی مرکز ہنوز سرگرم ہے۔ رپورٹ کے مطابق کارگل کی لڑائی نقطہ عروج پر پہنچنے کے دوران ہندوستانی فوج نے ویسٹرن نیول کمانڈ سے درخواست کی کہ وہ بندرگاہ کراچی کی ناکہ بندے کردے تاکہ کارگل محاذ پر دشمن کے بنائے ہوئے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔ چنانچہ ہندوستانی بحریہ کے چند آبدوز مکمل ریڈیو خاموشی کے ساتھ کراچی کیلئے روانہ ہوئے انھیں دوہرے خفیہ اشارے یا کوڈس دیئے گئے تھیجس کے تحت انھیں اس وقت تک اپنا مشن جاری رکھنا تھا جب تک کہ انھیں اشارہ نہیں مل جاتا جو دوہرے خفیہ اشاروں میں کسی ایک سے میل نہیں کھاتا لیکن ہندوستانی بحریہ کے یہ آبدوز اپنا مشن مکمل کرتے انھیں ایسے ہی خفیہ اشارے مل گئے جو انھیں پہلے سے دیئے گئے تھے نتیجہ میں یہ آبدوز مشن مکمل کئے بناء واپس ہوگئے۔ ان کی واپسی ویسٹرن نیول کمانڈ کے لئے حیرت اور صدمہ کا باعث بنی۔ اُس نے اس سلسلہ میں دہلی میں بحریہ کے ہیڈکوارٹر سے ربط پیدا کیا جنھوں نے کسی بھی قسم کے کوڈس بھیجنے کی تردید کی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب کوئی نہیں جانتا تھا کہ آخر کیا ہورہا ہے۔ اس طرح بحریہ کے مشن کی ناکامی کے بعد فضائیہ کو میدان میں SAFED SAGAR آپریشن کے لئے اُتارا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنگ کے بعد تفصیلی تحقیقات کی گئی جس میں پتہ چلا کہ امریکی سفارت خانہ دہلی نے یہ خفیہ اشارے یا کوڈس بھیجے تھے!!!