حیدرآباد ۔ 4 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : راشن کارڈ کے حصول کے لیے درخواست داخل کرنے والوں کی کئی درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں اور وہ اب بھی راشن کارڈس کے حصول کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ۔ سرکاری ریکارڈس کے مطابق جولائی میں تقریبا 1,06,818 درخواستیں مسترد کردی گئیں اور ان میں کئی درخواستیں ایسی ہیں جنہیں عہدیداروں کی جانب سے کسی فیلڈ انسپکشن کے بغیر ہی مسترد کردیا گیا ۔ درخواست گذاروں کی جانب سے کئی اپیلوں کے باوجود اس مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہورہی ہے ۔ اس سے تنگ آکر ایک درخواست گذار بسم اللہ بی نے شہر کی ایک این جی او اسیم کی مدد سے دسمبر میں تلنگانہ ہائی کورٹ میں ایک درخواست داخل کی ہے ۔ نیز کئی لوگ اب بھی راشن کارڈس کے لیے دوبارہ درخواست دینے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ۔ درخواستوں کو مسترد کرنے کے لیے حکومت کے دعوے کو سمجھنے کے لیے ہیومن رائٹس لا نیٹ ورک کی ایک ٹیم نے اسوسی ایشن فار سوشیو اکنامک امپاورمنٹ آف دی مارجنلائزڈ ( ASEEM ) کے ہمراہ اس کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے ایک فیاکٹ ۔ فائینڈنگ چیک منعقد کیا جس میں انہیں معلوم ہوا کہ درخواستوں کو کسی فیلڈ تصدیق کے بغیر مسترد کردیا گیا ۔ چند لوگوں نے کہا کہ محکمہ سیول سپلائز نے مناسب جانچ کے بغیر ہی کئی لوگوں کو کارڈس جاری کرنے سے انکار کیا ۔ جو راشن کارڈس پر مبنی فلاحی اسکیمات سے مستفید ہونے سے محروم ہوگئے ہیں اسیم کے سکریٹری ایس کیو مسعود نے کہا کہ کئی لوگوں کی درخواستوں کو کسی نوٹس کے بغیر مسترد کردیا گیا ۔ ہماری اسوسی ایشن درخواست گذاروں کی مدد کے سلسلہ میں اور ہائی کورٹ میں اسے چیالنج کرنے کے لیے قانونی مدد بھی فراہم کررہی ہے ۔ کشن باغ کی ساکن درخواست گذار بسم اللہ بی نے جن کی درخواست مسترد کردی گئی ہے کہا کہ ’ سیول سپلائز کے عہدیداروں نے ان کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ ان کے پاس فور وہیلر ہے لیکن یہ سچ نہیں ہے ۔ انہوں نے حقائق کی جانچ کے بغیر درخواست مسترد کردی ۔ میں نے نئے راشن کارڈ کے لیے دوبارہ درخواست داخل کی لیکن بے فیض ۔ کوئی جواب نہ پاکر میں نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست داخل کی ہے ۔ آصف نگر کی ساکن بی کستوری نے کہا کہ ہماری درخواست کو کوئی وجہ بتائے بغیر مسترد کردیا گیا ۔ ہم راشن کارڈ کے حصول کے لیے بہت اہل ہیں ۔ میں نے چیف راشننگ آفیسر کو شکایت پیش کرتے ہوئے درخواست کی دوبارہ جانچ کرنے کے لیے کہا ہے اور میں ہنوز ان کے ردعمل کا انتظار کررہی ہوں ۔ درخواست گذاروں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ ایک اسسٹنٹ سیول سپلائی آفیسر نے کہا کہ درخواستوں کو اس لیے مسترد کیا گیا کیوں کہ وہ مختلف وجوہات کے باعث اہل نہیں پائے گئے ۔ جیسے درخواست گذار خط غربت کے نیچے نہیں ہے ، ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ مختلف مقامات سے نقل مقام کر کے آئے ہیں اور ان کی تفصیلات واضح نہیں ہیں ۔ محکمہ سیول سپلائز درخواست گذار کی اہلیت کی تصدیق کے لیے مختلف میٹرکس کا استعمال کرتا ہے اور پھر کسی کی فوڈ سیکوریٹی کارڈ اہلیت کو منسوخ کرتا ہے ۔۔