راہ گیروں کو مشکلات کیلئے شاہین باغ احتجاجی نہیں پولیس ذمہ دار

,

   

سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ کاسپریم کورٹ میںحلفنامہ ‘ چندر شیکھر آزاد و دیگر کا بھی اتفاق

نئی دہلی 23 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہشاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جو احتجاج ہو رہا ہے وہ پرامن ہے اور وہاں راہ گیروں کو جو مشکلات پیش آ رہی ہیں وہ احتجاج کی وجہ سے نہیں بلکہ پولیس کی جانب سے لگائی گئی غیر ضروری رکاوٹیں ہیں۔ یہی موقف سماجی کارکن سید بہادر عباس نقوی اور بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد نے بھی اختیار کیا تھا جب انہوں نے عدالت میں ایک مشترکہ حلفنامہ داخل کیا تھا ۔ حبیب اللہ ‘ آزاد اور نقوی نے مشترکہ طور پر ایک درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔ حبیب اللہ نے جسٹس ایس کے کول اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ کی ہدایت کے پیش نظر احتجاج کے مقام کا دورہ کیا ہے ۔ بنچ پر امکان ہے کہ پیر کو اس مسئلہ کی سماعت ہوگی ۔ سپریم کورٹ میں یہ درخواستیں دائر کی گئی ہیں کہ احتجاجیوںکو شاہین باغ سے ہٹادیا جائے اور اس علاقہ میں شہری ٹریفک کے پرسکون بہاو کو یقینی بنایا جائے ۔ سپریم کورٹ نے قبل ازیں کہا تھا کہ حالانکہ عوام کو جمہوری طور پر پرامن احتجاج کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے لیکن اگر اس سے شاہین باغ کے علاقہ میں ٹریفک کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے تو اس سے نراج کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ عدالت میں پیش کردہ اپنے حلفنامہ میں حبیب اللہ نے استدلال پیش کیا کہ شاہین باغ ایک پرامن اور معزز اختلاف رائے کی ایک بہترین مثال بنا ہوا ہے ۔ اس کی انفرادیت اس لئے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ سارے ہندوستان میں اس طرح کے اختلافات کو طاقت سے کچلنے کی کوششیں ہونے کے باوجود یہاں کچھ نہیں ہوا ہے ۔ حبیب اللہ نے کہا کہ سارے ملک یں ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانے اورمظالم ڈھانے پولیس کے منفی رویہ پر ہم خاموش تماشائی ہی بنے ہوئے ہیں ۔ اختلافات پر بات چیت کرنے کی بجائے اس اختلاف کو کچل دینے کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے ۔ لیکن یہ ہمارے دستور کے مغائر ہے ۔ مسٹر بہادر عباس نقوی اور مسٹر آزاد نے اپنے مشترکہ حلفنامہ میں دعوی کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے سیاسی آقاوں کو خوش کرنے کیلئے احتجاجیوں کو تشدد میں ماخوذ کرنے اور توڑ پھوڑ کے الزامات عائد کرنے کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ان احتجاجوں کو ختم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے غیر ضروری طور پر ان سڑکوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں جن کا احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ سڑکیں احتجاج کے مقام سے خاصی دوری پر بھی ہیں۔ حلفنامہ میں ان دونوں نے کہا کہ یہ در اصل احتجاج سے غیر مربوط سڑکیں ہیں جن پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں اور اسی وجہ سے عوام کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ راستہ چلنے والوں کو تکالیف در اصل پولیس نے عمدا پیدا کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ عدالت سے اس احتجاج کو ختم کروانے عدالت سے رجوع ہوئے وہ بھی بی جے پی کے حامی ہیں۔