حکومت نے ایک ایوان کو مفلوج کردیا، حکمران اتحاد وزیراعظم کا یرغمال: کھرگے۔ کانگریس کا راجیہ سبھا سے واک آوئٹ
نئی دہلی، 5 فروری (یواین آئی) کانگریس نے لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہول گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ دینے کا معاملہ جمعرات کو راجیہ سبھا میں بھی اٹھایا، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت نوک جھونک ہوئی اور بعد میں کانگریس نے ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ۔ ایوان میں قانون ساز دستاویزات پیش کیے جانے کے بعد چیئرمین نے اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے کو بولنے کا موقع دیا۔ کھرگے نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دباکر جمہوری عمل کو متاثر کر رہی ہے ۔ وہیں ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ لوک سبھا کی بحث کو لے کر راجیہ سبھا میں معاملہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کے مطابق کانگریس نے لوک سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کو صدر کے خطبے پر جواب دینے سے روکنے کے بعد اب راجیہ سبھا میں بھی اسی حکمت عملی پر کام کرتے ہوئے وزیر اعظم کو بولنے سے روکنے کی کوشش کی۔ نڈا نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ کھرگے بہت تجربہ کار اور سینئر ہیں، انہیں کانگریس کو راہول گاندھی کا “یرغمال” نہیں بننے دینا چاہیے ۔ چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نہرو نے بھی کہا تھا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی بحث سے جڑے مسائل کو دوسرے ایوان میں اٹھانا اچھی روایت نہیں ہے ۔ انہوں نے کھرگے اور دیگر اراکین سے کہا کہ وہ لوک سبھا کے مسائل کو اس ایوان میں نہ اٹھائیں، یہ پارلیمانی روایت کے خلاف ہے ۔ کھرگے نے کہا کہ پارلیمنٹ دونوں ایوانوں سے مل کر بنتی ہے اور اگر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک کے مفاد کی کوئی بات اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں اجازت دی جانی چاہیے ۔ نڈا نے کہا کہ حکومت ہر موضوع پر بحث کے لیے تیار ہے اور وزیر اعظم بھی لوک سبھا میں جواب دینے کے لیے تیار تھے لیکن کانگریس نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔ انہوں نے کھرگے سے کہا کہ آپ اتنے تجربہ کار اور سینئر ہیں، آپ کو پارٹی کو ایک معصوم بچے کا یرغمال بننے سے روکنا چاہیے ۔ رجیجو نے کہا کہ راجیہ سبھا میں تین دن سے بہت اچھی بحث چل رہی تھی، اچانک کانگریس کو نہ جانے کیا سوجھی کہ وہ اب اس ایوان میں لوک سبھا کے مسائل اٹھا رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایوان وزیر اعظم کے صدر کے خطبے پر جواب کو سننے کے لیے بے تاب ہے لیکن کانگریس کسی اور ایجنڈے کے تحت ایوان کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ کھرگے نے کہا کہ پارلیمنٹ دونوں ایوانوں سے چلتی ہے لیکن حکومت ایک ایوان کو مفلوج بنا کر پارلیمنٹ چلانا چاہتی ہے جو ملک کے لیے دھوکہ ہے ۔ کھرگے نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے حکمران اتحاد کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوک سبھا میں راہول گاندھی کو بولنے سے روکنے اور پنڈت نہرو و سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بارے میں ناشائستہ باتوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ نڈا نے الزام لگایا کہ کانگریس ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے ملک کے سفر میں رکاوٹ ڈالنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنے اور ایک خاندان کے مفاد کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے ۔ اس دوران کانگریس کے اراکین وقفے وقفے سے نعرے بازی کرتے رہے اور بعد میں واک آؤٹ کر گئے ۔
لوک سبھا میں تعطل برقرار، کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی
نئی دہلی، 5 فروری (یواین آئی) لوک سبھا میں جمعرات کو بھی اپوزیشن اراکین کی نعرے بازی جاری رہی جس کے باعث ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ تین بار ملتوی ہونے کے بعد جب کارروائی دوپہر تین بجے شروع ہوئی تو اپوزیشن اراکین دوبارہ نعرے بازی کرنے لگے ۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ہنگامے کے دوران کہا کہ بڑے دکھ کے ساتھ ایوان کو مطلع کرنا ہے کہ کل کچھ اراکین نے جس طرح کا رویہ اختیار کیا اور جو مناظر پیدا کیے ، وہ لوک سبھا کے آغاز سے آج تک کبھی نہیں ہوئے ۔ پارلیمانی نظام میں ایوان کے اسپیکر کا باوقار مقام ہمارے آئین میں قائم کیا گیا ہے ۔ اپوزیشن کے اراکین نے جو رویہ ایوان کے دفتر میں اختیار کیا وہ ہماری پارلیمانی روایات کے لیے مناسب نہیں تھا اور ایک سیاہ دھبے کے مترادف تھا۔ سب کو ایوان کو خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ایوان کے لیڈر کو صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا جواب دینا تھا تو ہمیں پختہ اطلاع ملی کہ کانگریس کے کئی اراکین وزیر اعظم نریندر مودی کی نشست کے قریب آکر کوئی غیر متوقع واقعہ کر سکتے تھے ۔ اگر ایسا واقعہ ہو جاتا تو یہ نہایت ناگوار منظر ہوتا اور ملک کی جمہوری روایات کو تار تار کر دیتا۔ اسپیکر نے کہاکہ اسے روکنے کے لیے ہم نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ انہیں ایوان میں نہیں آنا چاہیے ۔ ایوان کے اسپیکر ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری تھی کہ ایوان کی عظمت کو برقرار رکھا جائے ۔ لیڈر ایوان نے اپنی بات نہیں رکھی یہ کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے ۔ لیڈر ایوان نے میری درخواست کو مان کر ایوان کو ناگوار منظر سے بچایا۔ اس کے لیے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ اگر اراکین پوسٹر لے کر آئیں گے تو ایوان نہیں چلے گا۔ ایوان میں کل کا واقعہ ملک نے دیکھا، جس میں ایک خاتون رکن حکمراں پارٹی کے پوڈیم تک پہنچ گئیں۔ اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کو بڑھتے دیکھ کر مسٹر برلا نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی۔