پارٹی کے ناراض قائدین کو منانے اور انتخابی حکمت عملی پر مشاورت کا امکان
حیدرآباد۔/25 جون، ( سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات سے عین قبل کانگریس میں بعض اہم قائدین کے انحراف کی اطلاعات پر اے آئی سی سی قائد راہول گاندھی نے کل 26 جون کو تلنگانہ کے سرکردہ قائدین کو دہلی طلب کیا ہے۔ اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی اور بی آر ایس اور بی جے پی سے بعض اہم قائدین کی کانگریس میں شمولیت کے مسئلہ پر بات ہوسکتی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق راہول گاندھی نے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اور بعض سینئر قائدین کو نئی دہلی طلب کیا ہے۔ بی آر ایس سے سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی اور سابق وزیر جوپلی کرشنا راؤ کی شمولیت کے پیش نظر بعض ناراض قائدین کی سرگرمیوں پر روک لگانے راہول گاندھی نے یہ اجلاس طلب کیا ہے۔ پارٹی کے بعض سینئر قائدین کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے راہول گاندھی کا مجوزہ اجلاس اہمیت کا حامل ہے۔ واضح رہے کہ بی آر ایس قائدین کی کانگریس میں شمولیت پر جوابی کارروائی میں کے سی آر نے کانگریس کے 3 اہم قائدین کو بی آر ایس میں شمولیت کی دعوت دی ہے جن میں اتم کمارریڈی، جانا ریڈی اور جگا ریڈی شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض وزراء کو ان قائدین سے مشاورت کی ذمہ داری دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق تینوں قائدین نے کانگریس میں برقرار رہنے کے فیصلہ سے واقف کرایا تاہم کے سی آر نے مساعی جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ اسی دوران تلنگانہ میں اے آئی سی سی انچارج مانک راؤ ٹھاکرے نے جانا ریڈی کی قیامگاہ پہنچ کر ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ جانا ریڈی نے پارٹی سے انحراف کے امکانات کو مسترد کردیا اور کہا کہ وہ آخری سانس تک کانگریس میں رہیں گے۔ اتم کمار اور جگا ریڈی سے بھی مانک راؤ ٹھاکرے نے فون پر ربط کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ راہول گاندھی سے پیر کو ملاقات میں دونوں قائدین اپنے موقف کی وضاحت کریں گے۔ ایسے وقت جبکہ تلنگانہ میں کانگریس کا موقف مستحکم ہوا ہے بی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے انحراف کی حوصلہ افزائی نے کانگریس ہائی کمان کو الجھن میں مبتلاء کردیا ہے۔ کھمم لوک سبھا کی نشست پر دعویداری رکھنے والے دو قائدین نے پی سرینواس ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کی مخالفت کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ متحدہ نلگنڈہ ضلع کے بعض قائدین کی کانگریس میں شمولیت پر اتم کمارریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شمولیت کے بارے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اپنے طور پر فیصلے کررہے ہیں۔ر