راہول گاندھی کی پدیاترا سے بی جے پی اور آر ایس ایس تنظیمیں بوکھلاہٹ کا شکار

   


مودی حکومت میں ملک کی ترقی نہیں، ریاست تلنگانہ کانگریس کی دین، کاماریڈی میں جلسہ سے محمد علی شبیر اور دیگر قائدین کا خطاب

کاماریڈی :16؍ اکتوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی کیلئے آج کاماریڈی ضلع کے پٹلم منڈل میں منعقد کی گئی اس جلسہ میں سینئر کانگریس قائد محمد علی شبیر ، پردیش کانگریس کے خازن پی سدرشن ریڈی ، سابق ریاستی وزیر ، سابق رکن اسمبلی جکل اسمبلی انچارج گنگارام ، ضلع کانگریس صدر کے سریوناس رائو ، کانگریسی قائدین طاہر بن حمدان ، گڑگو گنگادھر ، نظام آباد ضلع کے صدر موہن ریڈی ، مدن موہن رائو و دیگر نے شرکت کی ۔ راہول گاندھی کی پدیاترا جکل حلقہ میں 69 کلو میٹر پیدل چلیں گے ۔ راہول گاندھی کی پدیاترا کو کامیاب بنانے کیلئے متحدہ ضلع کے قائدین آج پٹلم میں ایک بھاری اجلاس طلب کیا اس اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کانگریس کی دین ہے 60 سال کی جدوجہد کے نتیجہ میں تلنگانہ کے نوجوانوں کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے کانگریس پارٹی نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کا قیام عمل میں لایا ہے اور اس کا فائدہ ٹی آرایس کو ہوا ہے تلنگانہ کے قیام کے بعد 8 سالوں میں کے سی آر ایک بھی وعدہ کو پورا نہیں کیا ۔ پرانہیتا چیوڑلہ کے ڈیزائن کی تبدیلی عمل میں لاتے ہوئے کالیشورم کے نام پر تبدیل کیا گیا اور 3 اسمبلی حلقوں کو پانی سیراب کیا جارہا ہے اور اس کیلئے دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے خرچ کئے گئے لیکن اس سے کوئی فائد حاصل ہونے والا نہیں ہے اور تلنگانہ حکومت کی جانب سے ان8 سالوں میں ساڑھے چار لاکھ کروڑ روپئے قرض کرتے ہوئے تلنگانہ کو قرض کے بوجھ ڈوبودیا گیا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں جن افراد نے حصہ لیا تھا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن تلنگانہ تحریک کی مخالفت کرنے والے افراد کو تلنگانہ حکومت میں فائدہ ہوا ہے اور چار فیصد وزراء تلنگانہ تحریک میں باغی ہے ۔ ٹی آرایس کو بی آرایس میں تبدیل کرنے سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ متحدہ ضلع کے ارکان اسمبلی ، وزراء کا چیف منسٹر کے پاس کوئی وقار نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے ان سے نمائندگی کرتے ہوئے فنڈس کے حاصل کیلئے ابھی تک کوئی نمائندگی نہیں کی ۔ جکل حلقہ اسمبلی میں واقع قومی شاہراہ 161 کو فور لائن میں کانگریس کے دور میں کیا گیا تھا ۔ کالیشورم میں ہوئی دھاندلیوں پر تحقیق کرنے کا محمد علی شبیر نے پرُ زور مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی حکومت کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے مودی حکومت میں ملک کی ترقی تو نہیں ہوئی لیکن امبانی ، ادانی کی ترقی ہوئی اور عالمی سطح پر ہندوستان کا مقام 121 کو پہنچ گیا ہے ۔ ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ملک کے استحکام کیلئے راہول گاندھی نے پدیاترا شروع کی تو بی جے پی اس سے خوف زد ہ ہوگئی ہے اور بی جے پی آرایس ایس کی تنظیمیں بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ راہول گاندھی کے دورہ کے بعد بی جے پی ، آرایس ایس اقلیتوں سے ملاقات کرتے ہوئے ہمدردی دکھارہی ہے ۔ لہذا ان کی بھکاوے نہ آنے کی خواہش کی ۔ اس موقع پر پردیش کانگریس کے خازن پی سدرشن ریڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کو بڑے پیمانے پر کامیاب بنائیں اس کیلئے کانگریس کارکن ابھی سے مصروف ہوجانے کی خواہش کی ۔