راہول گاندھی کے بیان پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ

,

   

ہند۔چین سرحد تنازعہ پر سابق فوجی کی کتاب کا حوالہ، راجناتھ کا سخت اعتراض
نئی دہلی، 2 فروری (یواین آئی) لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تجویز پر بحث کے دوران پیر کو اپوزیشن کے رہنما راہول گاندھی کے ایک بیان پر شدید ہنگامہ ہوا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی کچھ وقت کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ راہول گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران ایک سابق فوجی سربراہ کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے ہند-چین سرحد پر ڈوکلام کے حوالے سے کچھ کہنے کی کوشش کی۔ اس پر وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کسی میگزین کے حوالے سے ایوان میں بات کرنا قواعد کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دے کر اپوزیشن لیڈر ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کے درمیان نوک جھونک شروع ہو گئی۔ اس دوران لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایوان کے قواعد کا ذکر کرتے ہوئے وضاحت دی کہ ایوان میں کسی اخبار کی کٹنگ، رسالہ یا کسی کتاب میں شائع شدہ باتوں کی بنیاد پر کوئی رکن اپنی بات نہیں رکھ سکتا۔ اس دوران وزیرِ داخلہ امت شاہ اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بھی سنگھ کے اعتراض کی حمایت کی اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو کسی رسالے کی بنیاد پر اپنی بات ایوان میں رکھنے کا حق نہیں ہے ۔ دونوں طرف کے اراکین نے قواعد کا حوالہ دیا، جس پر مسٹر برلا نے کہا کہ وہ جو وضاحت دے رہے ہیں وہ قواعد کی بنیاد پر ہے اور تمام اراکین کو اس کی پابندی کرنی چاہیے ۔ شاہ نے کہا کہ وزیرِ دفاع صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ جس کتاب کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ چھپی ہی نہیں ہے تو اس کا ذکر کہاں سے کیا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ خود اپوزیشن لیڈر کہہ رہے ہیں کہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے ۔ شاہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو بولنے کا حق ہے لیکن جب اسپیکر نے وضاحت دے دی ہے تو اس کی پابندی ہونی چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر کسی اور کی لکھی باتوں کو نہیں دہرا سکتے ، وہ قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ جب اسپیکر وضاحت دے چکے ہیں تو اپوزیشن لیڈر کو اس کی پابندی کرنی چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ خود وزیرِاعظم نریندر مودی اپوزیشن لیڈر کی بات سننے کے لیے ایوان میں بیٹھے ہیں، اس لیے انہیں قواعد کے تحت بولنا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ ایوان قواعد سے چلتا ہے اور اگر اپوزیشن لیڈر وضاحت کو نہیں مانتے ہیں اور اسپیکر بار بار وضاحت دے چکے ہیں اور اپوزیشن لیڈر پھر بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں تو اس پر غور کیا جانا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اپوزیشن لیڈر نہیں مانتے ہیں تو نئے اراکین سے قواعد کی پابندی کرانا مشکل ہو جائے گا، اس لیے اسپیکر کو قواعد بنانے چاہئیں کہ ایوان کیسے چلے گا۔